ترکیہ کی جانب سے نیتن یاہو سمیت دیگر حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اقدام کو اسرائیل نے ’تشہیری حربہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکیہ نے غزہ میں مبینہ ’نسل کشی‘ کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل آمر (صدر رجب طیب اردوان) کے تازہ ترین پبلسٹی سٹنٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
The Istanbul Prosecutor’s Office – which, as recalled, recently orchestrated the arrest of the Mayor of Istanbul merely for daring to run against Erdoğan – has now issued “arrest warrants” for Israeli leaders and senior officials.
In Erdoğan’s Turkey, the judiciary has long…
— Gideon Sa'ar | גדעון סער (@gidonsaar) November 7, 2025
ترکیہ نے جمعے کے روز غزہ میں ’نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات پر اسرائیلی حکام اور رہنماؤں کے خلاف 37 وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے جمعہ کو کہا تھا کہ اس نے غزہ میں ”نسل کشی”کے الزام میں نیتن یاہو، اسرائیل کاٹز، ایال ضمیر اور ڈیوڈ سار سلاما سمیت 37 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
’نیتن یاہو آیا تو طیارہ واپس لے جاؤں گا‘ ترک صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کی شرکت رکوا دی
گزشتہ نومبر میں بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسرائیل کو انکلیو پر اپنی جنگ کے لیے عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔


