فلسطین میں‌ امن کے لیے اقوام متحدہ کی تجویز کو اسرائیل نے مسترد کردیا palestine crisis
The news is by your side.

Advertisement

فلسطین میں‌ امن کے لیے اقوام متحدہ کی تجویز کو اسرائیل نے مسترد کردیا

نیویارک : غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور پامال ہونے والے انسانی حقوق کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ میں پیش کی گئی تجویز کو مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ فلسطین پر کئی دہائیوں سے قابض صیہونی ریاست اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی عوام کے حقوق کو روندتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے پیش کی جانے والی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جان و مال کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پامالیوں کی روک تھام کے لیے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے پیش کی تھی۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل انتونیو گویٹریس کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے پامال ہونے والے حقوق پر 14 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ 4 تجاویز بھی پیش کی تھیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے تجاویز پیش کی تھیں فلسطین میں انسانی امداد بڑھائی جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین کو فلسطین بھیجا جائے، فلسطین کے معاملے پر غیر مسلح مبصرین کی خدمات لی جائیں اور اقوام متحدہ کی تفویض کردہ سیکورٹی فورس کو فلسطین میں تعینات کیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 50 برس کے زائد عرصے سے فلسطین پر فوجی قبضہ کیا ہے۔

انتونیو گریٹریس نے رپورٹ میں کم زور سیاسی اداروں اور امن و امان کی کوششوں میں تعطل کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عملی، قانونی اور سیاسی طور پر مشکل اور پیچیدہ عمل بن چکا ہے۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی شہریوں کو صرف سیاسی حل کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے اور جب تک کوئی حل نہیں نکلتا اس وقت تک اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات پر کام کرنا چاہیے جو اسرائیلیوں کے لیے تحفظ کا باعث ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں