The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی حکام نے فلسطینی شاعرہ کو جیل سے رہا کردیا

یروشلم : اسرائیلی حکام نے صیہونی فورسز کے ظلم و بربریت کے خلاف نظم (قاوم یا شعبی قاومھم) تحریر کرنے کے جرم میں قید فلسطینی شاعرہ دارین طاطور کو رہا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی مظالم کے خلاف اشعار اور نظمیں کہنے کے جرم میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی فلسطینی شاعرہ کو 2 ماہ قید میں گزارنے کے بعد صیہونی حکام نے آج رہا کردیا۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے صیہونی مظالم کے خلاف اشعار لکھ کر شہریوں کو شدت پسندی پر ابھارنے کے جرم میں 5 ماہ قید کی سزا سنائی تھی تاہم اسرائیلی حکام نے 2 ماہ قید رہنے کے بعد دارین طاطور کو رہا کردیا گیا۔

اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والی فلسطینی شاعرہ دارین طاطور کا کہنا ہے کہ مجھے جیل اور گھر میں تین برس قید کے بعد رہائی ملی ہے۔

فلسطینی شاعرہ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی آزادی حاصل کی ہے اور میں دوبارہ اشعار اور نظمیں لکھوں گی، مجھے دی گئی تمام اذیتیں میری نظم (قاوم یا شعبی قاومھم) لکھنے کے باعث برداشت کرنا پڑی جو اسرائیلی فورسز کے ظلم و بربریت کے خلاف لکھی تھی۔


مزید پڑھیں : اسرائیلی مظالم کے خلاف اشعار کہنے پر فلسطینی شاعرہ کو سزا


یاد رہے کہ ایک ماہ قبل اسرائیلی عدالت نے فلسطینی شاعرہ دارین طاطور کو صیہونی مظالم کے خلاف نظم (قاوم یا شعبی قاومھم) سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے جرم میں 5 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عدالت میں فلسطینی شاعرہ 36 سالہ دارین طاطور پر عوام کو شدت پسندی پر ابھارنے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی آزادی پسند ’اسلامی جہاد‘ سے رابطے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت اور فورسز نے ’اسلامی جہاد‘ کو کالعدم تنظیم کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دارین طاطور کی جانب سے مذکورہ ویڈیو سنہ 2015 میں شائع کی گئی تھی جب اسرائیلی شہریوں کو چھرے، فائرنگ اور گاڑی سے کچلنے کے واقعات نے سر اٹھانا شروع کیا تھا، جس کے بعد صیہونی افواج نے اکتوبر 2015 میں فلسطینی شاعرہ کو گرفتار کرلیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں