تل ابیب (12 اپریل 2026) : ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جنگ کے اقتصادی اثرات پر اسرائیلی وزارت خزانہ کی چیخیں نکل گئیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کے حوالے سے اسرائیلی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک 11 ارب ڈالر سے زائد لاگت آچکی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ دفاعی اخراجات پر مشتمل ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خزانہ کے مطابق امریکا کی حمایت سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں اسرائیل کو 35 ارب شیکلز کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کرناپڑا جس سے ملکی معیشت پر کافی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ابتدائی تخمینے میں بتایا گیا ہے کہ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور جنگی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اقتصادی نقصان میں انفرااسٹرکچر ٹوٹنے اور کاروباری بندشیں شامل ہیں اگر تنازع طویل ہوا تو معیشت کو مزید بڑے نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے دفاعی مد میں اب تک 22 ارب شیکلز کے خطیر اخراجات کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لئے بُری خبر
واضح رہے کہ کرپٹ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف 2020 سے جاری کرپشن کیس کی سماعت آج بروز اتوار 4 اپریل سے دوبارہ شروع ہوجائے گی۔
غیر ملکی ذرائع ا بلاغ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن کیس میں مقدمات کی سماعت جنگ کے باعث عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں تاہم جنگ بندی کے بعد معمولات بحال ہورہے ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ہیں جس پر کیس چل رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


