The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل: افریقی مہاجرین کی ملک بدری کا منصوبہ منسوخ ہوگیا

تل ابیب: اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ سے معاہدے کے بعد غیرقانونی طریقوں سے اسرائیل میں داخل ہونے والے مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ماہ اسرائیلی عدالت عالیہ نے حکومت کی جانب سے ہزاروں افریقی تاریکین وطن کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو متنازع قرار دے کر معطل کردیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا اقوام متحدہ سے معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت 16000 افریقی تارکین وطن کو کینیڈا، اٹلی، جرمنی، سمیت دیگر مغربی ممالک میں منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد ہم نے ملک بدر کرنے کا منصوبہ منسوخ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 16000 افریقی مہاجرین کو مغربی ممالک میں منتقل کرنے کے بعد دیگر سولہ ہزار افراد کو اسرائیل میں مستقل بنیادوں پر رہنے کے اجازت نامے دے دیے جائیں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ افریقی ممالک یوگنڈا اور راوانڈا کے متعدد شہری اسرائیل ہجرت کرکے آئے تھے، عدالتی فیصلے کے بعد نئے منصوبے پر آئندہ پانچ سالوں میں عمل درآمد کیا جائے گا۔


افریقی مہاجرین کی ملک بدری کا فیصلہ اسرائیلی عدالت نے مسترد کردیا


یاد رہے کہ اسرائیلی حکام نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل میں موجود افریقی مہاجرین مارچ کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں۔

رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے والے افراد کو حکومت نے 3500 ڈالر اور جہاز کا ٹکٹ دینے کی پیشکش بھی کی تھی، ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ مقررہ مدت تک اسرائیل نہ چھوڑنے والے تارکین وطن کو گرفتاری اور جبراً ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں