پیراگوئے کے صدارتی محل کے باہر اسرائیل حامیوں کا احتجاج israel-supporters
The news is by your side.

Advertisement

پیراگوئے کے صدارتی محل کے باہر اسرائیل حامیوں کا احتجاج

اسونسیون : مقبوضہ بیت المقدس میں قائم لاطین امریکی ملک کے سفارت خانے کی واپس تل ابیب منتقلی پر پیراگوئے میں اسرائیل حامیوں نے صدارتی محل کے باہر مظاہرے شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد پیراگوئے سمیت کئی ممالک نے اپنے سفارت خانے فلسطین کے شہر مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردئیے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پیراگوئے کے حکام کی جانب سے تین ماہ بعد سفارت خانے کو واپس کو غاصب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب منتقل کیا گیا ہےاس فیصلے کے بعد سے  پیراگوئے میں موجود اسرائیل حامیوں کی جانب سے شدید غم و غصّے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پیراگوئے میں مقیم اسرایئلیوں نے حکومتی فیصلے کو  رد کرتے ہوئے صدارتی محل کے باہر احتجاج کیا جارہا ہے۔

پیراگوئے کے صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سفارت خانہ واپس مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے  اسے کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

خیال رہے کہ پیراگوئے حکومت کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے لاطینی امریکا کے ملک پیراگوئے میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام نے پیراگوئے پر دباؤ ڈالتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہا ہے۔

پیراگوئے کے وزیر خارجہ لوئس ایلبرٹو کا کہنا تھا کہ پیراگوئے کی عوام اور حکومت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کےلیے کی جانے والی سفارتی کوششوں میں پورے خلوص کے ساتھ شریک ہونا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس 21 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پیراگوئے کے صدر ہوراسیو کارٹس نے منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اپنے سفارت خانے کا افتتاح کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں