The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی وزیراعظم کی غزہ میں مزید حملوں کی دھمکی

یروشلم : اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پرمظالم رکنے کا نام نہیں لے رہے، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے غزہ میں مزید حملوں کی دھمکی دے دی جبکہ کویت نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں امریکی قرارداد ویٹو کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی جبرمیں زندگی گزارنے والے نہتے فلسطینیوں کو مظالم کی نئی لہرکا سامنا ہے، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہونے مارٹر حملوں کا بہانہ بنا کرغزہ میں مزید حملوں کی دھمکی دے دی۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کا پوری قوت کے ساتھ جواب دے گی اور اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی، اسرائیل پر کیے جانے والے ان حملوں کو نہ روکنے کا ذمہ دار حماس کو سمجھتے ہیں۔‘

دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے رمضان کے دوران سیزفائرکی پیش کش کی ہے جبکہ کویت نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں امریکی قرارداد بلاک کردی اورعالمی برادری سے فلسطینیوں کوتحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکا نے اسرائیل کے حق میں قرارداد پیش کی تھی۔

یاد رہے گزشتہ روزاسرائیلی طیاروں نے غزہ میں 70 سے زائد مقامات پربمباری کی تھی اور اسرائیلی حملوں میں شہری آبادی کونشانہ بنایا گیا۔


مزید پڑھیں :  اسرائیل غزہ پر ٹوٹ پڑا، درجنوں مقامات پر زبردست بم باری


اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقوں میں اندازاً 70 راکٹس اور مارٹر گولے فائر کیے گئے جو 2014 کی جنگ کے بعد سے ایک بڑا حملہ ہے،  مذکورہ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج سے لڑنے والے گروہوں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف پر فضائی حملے کیے گئے، حملوں میں سرحدی سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا جو مجاہدین کے زیر استعمال تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم نے آنے والے 25 میزائلوں کو روکا، یہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی پر سب سے بڑا حملہ تھا۔

امریکی سفیر نکی ہیلی نے غزہ سے ہونے والے حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان حملوں میں سے سب سے بڑا حملہ تھا جو ہم 2014 سے دیکھتے آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی سرحد پر احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں کو اسرائیلی اسنائپرز نے بے دردی سے نشانہ بناتے ہوئے 100 سے زائد بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا جس پر عالمی برادری نے بھی اسرائیل کی مذمت کی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں