اسرائیلی وزیرخارجہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو رک جانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو رک جانا چاہیے۔
غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والا بین الاقوامی قافلہ گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے قریب پہنچ گیا ہے۔فلوٹیلا میں 40 سے زائد شہری کشتیاں شامل ہیں جن میں پارلیمنٹیرینز، وکلا اور مختلف ممالک کے رضاکار شریک ہیں، سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی قافلے کا حصہ ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امدادی قافلہ آج کسی بھی وقت غزہ پہنچ سکتا ہے، اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہازوں نے فلوٹیلا کو گھیرے میں لے لیا ہے، جبکہ درجنوں ڈرونز کی پروازوں سے کشتیوں کی سی سی ٹی وی سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان، جو اس قافلے کا حصہ ہیں، نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسرائیلی جنگی جہاز نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور حملے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تمام افراد نے حفاظتی جیکٹس پہن لی ہیں تاہم قافلے کا سفر کسی صورت نہیں رکے گا۔
’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کا مقصد اسرائیلی محاصرہ توڑتے ہوئے خوراک، ادویات اور ضروری امدادی سامان غزہ کے عوام تک پہنچانا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خبردار کرتا ہوں اسرائیل گلوبل صمودفلوٹیلا پر حملے کی غلطی نہ کرے، غزہ جانے والی کشتیوں میں سوار لوگ اسرائیل کیلئےخطرہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہریوں کو مکمل سفارتی تحفظ حاصل ہو گا، توقع ہے نتن یاہو کی حکومت بھی فلوٹیلا کو خطرہ نہیں بنائے گی، اسرائیل نے انروا کو امداد پہنچانے سے نہ روکا ہوتا ہوتا تو فلوٹیلا کی ضرورت نہ پڑتی۔
کولمبیا کے صدر گستاؤپیٹرو نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ انسانیت کے خلاف جرم ہو گا، فلوٹیلا عملے کی زندگیاں اور سلامتی ہر صورت محفوظ رہنی چاہیے، فلوٹیلا پرحملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہو گا یہ مشن شہری، انسانی اور پرُامن ہے اس پر حملہ ناقابل قبول ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


