(18 جنوری 2026): اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ امریکا کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں غزہ بورڈ آف پیش کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیش کی تشکیل کیلیے رابطہ نہیں کیا گیا، یہ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار مذکورہ معاملہ امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت میں اُٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بورڈ آف پیس میں شامل 2 بڑی کاروباری شخصیات کون ہیں؟
وائٹ ہاؤس کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے نام نہاد بورڈ آف پیس کا مقصد محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت غزہ کے عارضی نظام حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔
گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس کے کئی ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
امریکی صدر خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے۔
بورڈ کا قیام ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو انہوں نے غزہ جنگ کے خاتمے کیلیے پیش کیا۔ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کے زیر نگرانی کام کرے گی جو عبوری دور کے دوران غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی کرے گا۔
واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کیلیے نامزد زیادہ تر افراد اسرائیل اور اس کی غزہ جنگ کے بڑے حامی رہے ہیں۔ فلسطینیوں کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ارکان انصاف، تعمیر نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


