The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی سرحدکے قریب آنے والےاپنی زندگی خطرےمیں ڈالیں گے، اسرائیلی وزیردفاع

تل ابیب : اسرائیلی وزیر دفاع نے سرحدی علاقے میں فلسطینی عوام کی جانب سے احتجاج کے پیش نظروارننگ جاری کی ہےکہ ’سرحدی باڑ کے قریب آنے والا اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا‘۔

تفصیلات کے مطابق فلسطین میں حالیہ دنوں ہونے والے مظاہروں میں نہتے فلسطینوں کی شہادت کے بعد اسرائیل کی غیر سرکاری انسانی حقوق کی تنظیم نے مہم شروع کی ہے کہ اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینیوں پر گولیاں چلانے سے انکار کردیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی ’بی ٹسلیم‘ نامی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے اسرائیلی اخبارات میں اشتہارات بھی دیئے گئے ہیں کہ ’معاف کیجیئے کمانڈر میں گولی نہیں چلا سکتا‘۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا موقف ہے کہ ایسا تصادم جو عام شہریوں کی جان لے، جو بے گناہ انسانوں کی زندگی کے لیے خطرہ ہو وہ عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے۔

مذکورہ تنظیم کی جانب سے یہ مطالبہ گذشتہ جمعے مشرقی یروشلم کی سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی عوام کی جانب سے کیے گئے مظاہرے میں صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے 17 مظاہرین کی شہادت ہوئی تھی۔

انسانی حقوق کیی تنظیم کی جانب سے اخبارات میں اشتہارات شائع کروانے پر اسرائیلی پبلک سیکیورٹی ککے وزیر نے تنظیمی کارکنوں کے خلاف ’دفاعی فوجیوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانے‘ کے مقدمات درج کرکے تحقیقات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آج بھی 50 ہزار سے زائد فلسطینی مظاہرین اسرائیلی سرحد کے قریب پانچ مقامات پر جمع ہوکر احتجاج کا آغاز کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزیردفاع اویگدر لیبرمن نے وارننگ دی ہے کہ پانچ مقامات پر اسرائیلی فوجی اور سنائیپرز تعینات کیے گئے ہیں ’جو سرحدی باڑ وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالے گا‘۔


فلسطینیوں کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان


 دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ فلسطینی عوام احتجاج کرنے کا پورا حق ہے لیکن اسرائیلی سرحد سے 500 میٹر کی دوری پر مظاہرہ کریں۔ کسی بھی صورت میں سرحد کے قریب نہ جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ان رہنماؤں اور مظاہرین کی مذمت کرتے ہیں جو مظاہرین بشمول بچوں کے کو سرحد کی قریب جانے کا کہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ زخمی یا جاں بحق ہوسکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ہفتے براہ راست فائرنگ پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی، جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سربراہ نے آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں