یروشلم (20 مارچ 2026): اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نماز عید ادا کرنے سے روک دیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس کی گورنریٹ کے مطابق اسرائیلی قابض حکام نے جمعہ کی صبح مسجد اقصیٰ کے احاطے میں نمازِ عید الفطر کی ادائیگی پر پابندی لگا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے مسجد اقصیٰ مسلسل 21 دنوں سے نمازیوں کے لیے بند ہے، جس کے باعث سینکڑوں مسلمان نمازیوں نے مسجد کے اطراف کی سڑکوں پر نمازِ عید ادا کی۔
قابض حکام کی سخت پابندیوں کے باوجود نمازیوں نے مسجد اقصیٰ کے قریبی مقامات بشمول باب العمود (دمشق گیٹ) اور باب الساہرہ پر نمازِ عید کے اجتماعات منعقد کیے۔
اس دوران اسرائیلی فورسز نے نمازیوں کو مسجد کے قریب آنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا، جبکہ صلاح الدین اسٹریٹ سے ایک نمازی کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔
یروشلم گورنریٹ نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کو ایک خطرناک اور بے مثال اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اسے مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اسرائیلی اقدامات کا مقصد ایک نیا جبر پر مبنی نظام مسلط کرنا اور مسجد اقصیٰ کو فلسطینی عوام سے الگ تھلگ کرنا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


