اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، کئی ہفتوں سے جاری فضائی بمباری اور اونچی عمارتیں تباہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوج قبضہ کرنے کیلئے ٹینکوں کے ساتھ غزہ شہر کے وسط میں داخل ہوگئی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگی طیاروں سے شہر پر بمباری کی جارہی ہے، اس صورتحال میں امریکی وزیرخارجہ نے اعتراف کرلیا ہے کہ غزہ جنگ کا سفارتی حل نظر نہیں آتا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو سے پہلے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ڈیل بہت جلد ہونے کا امکان ہے۔
اسرائیل کی غزہ شہر میں پچھلے دو برسوں میں یہ پہلی کارروائی ہے، فضائی بمباری کے سبب غزہ شہر کے تین لاکھ مکین پہلے ہی جنوب کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق رفاہ کی طرح یہ شہر بھی زیادہ تر خالی کرالیا جائے گا تاہم سات لاکھ سے زائد شہری اب بھی غزہ شہر میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے علاقہ خالی کرنے سے منع کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خدشہ ہے کہ اب اس شہر میں بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔
مختلف ممالک کی جانب سے اسرائیلی فوج کے اس آپریشن کی شدید مذمت کی جارہی ہے اور خود اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامر کی جانب سے بھی اس کی مخالفت کی گئی تھی۔
اسرائیل قطر پر دوبارہ حملہ آور نہیں ہوگا، ٹرمپ
گزشتہ روز انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس آپریشن سے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، اسرائیلی فوج کو بھاری جانی نقصان کاخدشہ ہے اور حماس کو ختم کرنے کی کوشش ناکامی کا شکار ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس نے اس آپریشن کے جواب میں تمام یرغمال اسرائیلیوں کو سرنگوں سے باہر نکال لیا ہے اور اب انہیں ڈھال بنایا جائے گا۔
غزہ شہر پر اسرائیلی فوج کے حملے پر یرغمالیوں اور لاپتا اسرائیلییوں کے عزیزوں نے شدید تنقید کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


