غزہ: مغربی کنارے میں واقع ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے تقریباً 15 فلسطینیوں کے گھر اور ایک مویشی باڑے کو مسمار کر دیا۔ یہ بات گزشتہ روز مقامی رہائشیوں اور کارکنوں نے خبر رساں ادارے کو بتائی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث متعدد خاندان پہلے ہی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ پیش رفت چند روز قبل اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول سخت کرنے کے اقدامات کی منظوری کے بعد سامنے آئی، جس سے مزید یہودی بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔
گاؤں کے رہائشی مصطفیٰ، جو تقریباً دو دہائیوں سے علاقے میں مقیم ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا، تقریباً 50 آبادکار آئے، انہوں نے سب کو گھروں سے نکالا اور مسماری شروع کر دی۔ پھر وہ ہر چیز ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ مرغیاں بھی لے گئے۔
ان کے مطابق زیادہ تر آبادکار مسلح اور نقاب پوش تھے اور ان کے ساتھ اسرائیلی فوج کی ایک گاڑی بھی موجود تھی۔ بعد ازاں وہ ایک بلڈوزر لے کر واپس آئے۔
ایک اور رہائشی نے بتایا کہ آبادکاروں نے خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، خاندانوں کو گھروں سے نکال دیا اور ذاتی سامان قبضے میں لے لیا۔
مسمار کیے گئے گھروں میں سے ایک کے مالک کا کہنا ہے کہ کسی قسم کا انہدامی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید وسعت دی جا سکے گی۔
ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، ایرانی صدر کا دو ٹوک پیغام
ان منصوبوں کے تحت یہودی اسرائیلی شہریوں کو مغربی کنارے میں براہِ راست زمین خریدنے کی اجازت دی جا سکے گی اور بعض مذہبی مقامات کا انتظام بھی اسرائیلی حکام سنبھال سکیں گے، چاہے وہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں ہی کیوں نہ واقع ہوں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


