The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی فوجی ایک بار پھرنہتے فلسطینیوں کے گھرمنہدم کرنے لگے

بیت المقدس : مقبوضہ بیت المقدس کی وادی الحمص کے سربراہ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی عدالت نے متاثرہ خاندانوں کو 18 جولائی تک مکانات مسمار کرنے کی مہلت دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے دارالحکومت یروشلم میں اسرائیلی بلدیہ کے عملے نے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں صور باھر قصبے کے ساتھ واقع وادی الحمص پر دھاوا بولا اور گھروں کو مسمار کرنے کی دھمکی کے ساتھ گھروں کی پیمائش کی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کا کہنا تھا کہ وادی الحمص کمیٹی کے سربراہ حمادہ حمادہ نے کہا کہ مکانات مسماری کی منصوبہ بندی میں 237 رہائشی اپارٹمنٹس شامل ہیں جہاں 500 لوگ آباد ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حمادہ نے کہا کہ یروشلم کی بلدیہ نے رہائشیوں سے اپنے مکانات خود مسماری کرنے کا کہا نہیں تو انہیں مسمار کر دیا جائے گا اور زبردستی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی عدالت نے خاندانوں کو 18 جولائی تک کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنے مکانات مسمار کر دیں۔ مطلوبہ مکانات کو دیوار علیحدگی کے ساتتھ واقع ہونے اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہونے کا بہانہ بنا کر مسمار کای ھا رہا ہے۔

اسرائیلی قانون کے مطابق فلسطینیوں کے گھر دیوار سے 250 میٹر دور ہوں۔وادی الحمص میں 6000 فلسطینی آباد ہیں، مسماری کے بعد 500 لوگوں کو زیردستی وہان سے نکال دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں