The news is by your side.

Advertisement

فلسطینی طالبہ کو اسرائیل میں داخلے اور حصولِ تعلیم کی اجازت

فلسطینی نژاد امریکی طالبہ نے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کیا تھا

یروشلم : اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینی نژاد امریکی طالبہ کو دو ہفتے ایئرپورٹ پر پھنسے رہنے کے بعد اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے بن گوریان ایئر پورٹ پر دو ہفتے سے پھنسی امریکی طالبہ لارا القاسم پر الزام عائد تھا کہ وہ فلوریڈا میں اسرائیل مخالف مہم کا حصّہ تھی جس کے باعث اسے اسرائیل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ لارا القاسم نے اسرائیلی یونیورسٹی میں شعبہ انسانی حقوق اور انصاف میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا تھا اور پہلے سمسٹر میں شرکت کے لیے 2 اکتوبر کو اسرائیل پہنچی تھی لیکن صیہونی حکام نے واپس لوٹنے کا کہہ دیا تھا۔

فلسطینی نژاد امریکی طالبہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ کورٹ کا فیصلہ آزادی رائے، تعلیم اور قانون کی حکمرانی ہے۔

اسرائیلی وزیر نے عدالتی فیصلے کو شرمناک اور صیہونی ریاست کی بے عزتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اسرائیل کے خلاف سرعام مہم چلانے والے طالب علموں کو ریاست میں داخلے کی اجازت دے دی۔

اسرائیلی وزیر نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قومی وقار کہاں ہے؟ لارا القاسم امریکا میں اسرائیل کے خلاف مہم میں شامل ہو اور پھر اسرائیل میں داخلے اور تعلیم کا مطالبہ کرے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی طالب علم لارا القاسم کو سنہ 2017 میں بنائے گئے متنازع قانون کے تحت روکا گیا تھا جس کے تحت اسرائیل کے خلاف مہم چلانے والے غیر ملکیوں کو اسرائیل میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فلوریڈا سے اسرئیل پہنچے والی 22 سالہ فلسطینی طالبہ نے اسرائیلی حکومت کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے دو ہفتے بعد ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔

امریکی طالبہ لارا القاسم کے حق میں عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہیبرو یونیورسٹی نے لارا القاسم کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہ وہ آئندہ ہفتے سے شعبہ انسانی حقوق اور انصاف کی کلاسوں میں شرکت شروع کریں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں