آپریشن وعدہ صادق 3 کے بیسویں مرحلے کے دوران ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے فوجی اور حکومتی مراکز میں تباہی مچادی ہے۔
مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں نے چند دنوں میں ہی تل ابیب اور اسرائیل کے دوسرے شہروں میں فوجی اور حکومتی مراکز میں تباہی مچادی ہے، اپنی جدت پر نازاں صہیونی دفاعی نظام ایرانی میزائل اور ڈرون طیاروں کو روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔
لبنانی اخبار "الاخبار” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صہیونی دفاعی نظام کو ایرانی میزائل حملوں نے توڑ کر رکھ دیا ہے جبکہ ایرانی میزائلوں کی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور طاقت بھی ایک اہم عنصر ہے۔
ایرانی میزائل اسرائیل میں اہداف کو باآسانی نشانہ کیسے بنا رہے ہیں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
وعدہ صادق 3 آپریشن کے بیسویں مرحلے کے دوران نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے "الاخبار” نے لکھا کہ ایرانی حملہ شدید ترین حملوں میں سے ایک تھا جس سے اسرائیل میں بے مثال تباہی ہوئی ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایران نے تازہ حملوں میں 35 میزائل فائر کیے اور صہیونی دفاعی نظام انھیں روکنے میں ناکام رہا، میزائل مقبوضہ علاقوں کے مختلف حصوں میں گرے۔
حملہ اتنا اچانک تھا کہ حیفا میں خطرے کے سائرن تک فعال نہ ہوسکے جبکہ اس حوالے سے اسرائیلی فوج کا دعویٰ سامنے آیا کہ یہ صورتحال ایران کے میزائلوں کی ٹریکنگ میں رکاوٹ کی وجہ سے پیش آئی۔
iran israel تمام خبریں
حیفا کے میئر نے حملوں کے بعد بتایا کہ اگرچہ شہر میں کافی زیادہ تباہی ہوئی لیکن ہلاکتوں کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ روز ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے شہر کا بنیادی انفرااسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ صہیونی ذرائع ابلاغ نے سخت سنسر شپ لگائی ہوئی ہے جس کے باعث ایرانی میزائلوں سے ہونے والی تباہی کی تصاویر منظرعام پر نہیں آئیں۔
تاہم تمام تر سنسر شپ کے باوجود "نس تسیونا” کے علاقے میں شدید تباہی کی خبریں موصول ہوئی ہیں، جہاں صہیونی حکومت کی بایولوجیکل اسٹڈیز کی اکیڈمی قائم ہے۔
اسرائیل کیلیے بڑا دھچکا، آئرن ڈوم ایرانی میزائل روکنے میں ناکام رہا، فوٹیج سامنے آگئی
"الاخبار” نے بتایا کہ بایولوجیکل اسٹڈیز اکیڈمی حکومتی ادارہ ہے جس کا بنیادی مشن حیاتیاتی (بایولوجیکل)، کیمیائی اور ماحولیاتی سائنسی شعبوں میں صہیونی حکومت کے لیے اہم سیکیورٹی تحقیقی منصوبوں پر کام کرنا ہے۔
یہ کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے، جس کی سرگرمیاں انتہائی خفیہ رکھی جاتی ہیں، یہاں مہلک وائرسز اور مرکب زہریلے مواد کی تیاری بھی ہوتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے بیسویں میزائل حملے کے بعد اسرائیلی فوج ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکامی کی وجوہات پر تحقیقات کرے گی،
میزائل دھماکوں کی آوازیں مغربی کنارے تک سنی گئی تھیں، بن گوریان ایئرپورٹ گزشتہ روز مسلسل دھماکوں کی زد میں رہا تھا، یہ ان اسٹریٹجک اہداف میں شامل تھا جنھیں ایران نے کامیابی سے نشانہ بنایا۔
خیال رہے کہ ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے صہیونی عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، عوام اتنی خوفزدہے کہ وہ اپنے آبائی ممالک کی طرف ہجرت کررہے ہیں، بڑی تعداد میں اسرائیلی آباد کار مقبوضہ علاقوں سے فرار ہو رہے ہیں۔
’یہ جنگ آپ نے شروع کی ہے لیکن ختم ہم کریں گے‘ ایرانی فوج کا ٹرمپ کو سخت انتباہ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


