site
stats
عالمی خبریں

اسرائیلی ٹیلی ویژن کی نشریات ہیک، اذان نشر ہونے لگی

یروشلم: اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی پابندی کے بعد ہیکرز نے 2 نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کو ہیک کرکے لائیو اذان نشرکردی، اس دوران ٹی وی اسکرین پر مسجد اقصیٰ سمیت مقدس اسلامی مقامات کی تصاویر بھی نشر کی جاتی رہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر سے متعلق قانون سازی اور پابندی کے فیصلے کے باوجود اسرائیل کی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان بھی اس فیصلے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔


اذان پر پابندی کی تجویز کا پشت پناہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا نکلا


اسرائیلی نشریاتی ادارے یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل 2 اور چینل 10 کی نشریات کو منگل 29 نومبر کی رات 30 سیکنڈز کے لیے ہیک کرلیا گیا تھا۔

حکام نے چینلز کی نشریات ہیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس دوران ٹیلی ویژن پر اذان نشری کی گئی اور ایک پیغام دکھایا گیا جس میں اسرائیل میں لگنے والی حالیہ آگ کو اذان کی پابندی کے باعث آنے والا عذاب قرار دیا۔


پڑھیں: ’’ اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان، یہودی طیش میں‌ آگئے ‘‘


اسرائیلی حکام نے ہیکرز کا مبینہ طور پر تعلق سعودی عرب سے بتایا ہے تاہم چینل 2 نے اپنی نشریات ہیک ہونے کے بعد ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اذان کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئیٹ بھی کی ہے۔

چینل انتظامیہ نے کہا کہ’شمالی اسرائیل میں رہنے والے صارفین نے شکایت درج کی  کہ شام کو نشریات کے دوران کسی نے چینل کا کنٹرول سنبھال لیا اور اذان کی آواز سنائی دی جانے لگی’۔

عوامی شکایات کے بعد انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کیا جس میں ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جن ہیکرز نے سیٹلائٹ کا کنٹرول سنھبالا اُن کا تعلق عرب کمیونٹی سے تھا اور ان کی ہیکنگ کا مقصد صرف اذان نشر کرنا تھا۔


یہ بھی پڑھیں: ’’ اگر اسرائیل نے اذان دینے پر پابندی لگائی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے، ترک صدر ‘‘


خیال رہے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ’موذن بل‘ پیش کیا گیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے عوام کو مشکلات پیش آتی ہیں لہذا اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، اسمبلی اجلاس کے دوران مسلمان ممبر اسمبلی نے مائیک پر اذان دے کر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top