نئی دہلی : بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کا مشن لانچنگ کے تیسرے مرحلے میں پھر ناکام ہوگیا، سولہ سیٹلائٹس خلا میں ضائع ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کو ایک بار پھر عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیکنالوجی پرسنگین سوالات اٹھ گئے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی بھارت کے خلائی پروگرام اورمیزائل ٹیکنالوجی کاپردہ فاش کردیا۔
آئی ایس آر او کا مشن PSLV-C62 لانچنگ کے تیسرے مرحلے میں ناکام ہو گیا، راکٹ کی ناکامی کے نتیجے میں 16 سیٹلائٹس خلا میں ضائع ہو گئیں، جس کی تصدیق بھارتی میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے نے بھی کی ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ یہ ناکامی محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ بھارتی خلائی پروگرام میں موجود کمزوریوں کے تسلسل کی عکاس ہے، اس سے قبل 18 مئی 2025 کو بھی PSLV-C61 مشن تکنیکی خرابی کے باعث ناکام ہو چکا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ خلائی مشنز میں بار بار ناکامی نے بھارت کی اسٹریٹیجک ٹیکنالوجی، بالخصوص میزائل پروگرام، پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بھارت اگنی میزائل بشمول وارہیڈصلاحیت کوتو کامیاب قراردیتا ہے، بھارتی پی ایس ایل وی راکٹ میں اگنی میزائل ٹیکنالوجی ناکام ہوچکی ہے۔
ماہرین کے خبردار کیا جنگی صورتحال میں بھارتی میزائل میں یہی خامی سامنے آئی تو نتائج سنگین ہونگے، اگنی میزائل اصل ہدف کے بجائے کسی اورملک میں جاگرےتوجوابی کارروائی ہوسکتی ہے اور یہی وہ نکتہ ہے PSLV – C62 کی ناکامی محض سائنسی نہیں عالمی سلامتی کاسوال ہے۔
بھارتی راکٹ PSLV – C62 کی ناکامی پوری دنیا کیلئے انتباہ ہے کہ کسی ملک کی کمزور ٹیکنالوجی پورے خطے اور عالمی توازن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


