The news is by your side.

Advertisement

عدالتوں میں ججز اور عملے کی عدم تعیناتی کا معاملہ حکومتوں کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ

اسلام آباد: قومی عدالتی پالیسی کمیٹی نے عدالتوں اور ٹریبونلز میں ججز اور عملے کی عدم تعیناتی کا معاملہ حکومتوں سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عدالتوں میں ججز اور عملے کی عدم تعیناتی کا معاملہ حکومتوں سے اٹھایا جائے گا۔

اجلاس میں ماڈل سول، فیملی، رینٹ اور مجسٹریٹ کورٹس قایم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس کے لیے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو ججز نامزد کرنے کی ہدایت کی، فیصلہ کیا گیا کہ یہ ماڈل کورٹس روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے فیصلہ کریں گی، اور ان کورٹس میں التوا نہیں دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  عوامی نمائندوں کا ایوان ہو یا کرکٹ کا میدان، کسی ادارے سے اچھی خبریں نہیں آرہیں: چیف جسٹس

عدالتی پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں صنفی اور چائلڈ کورٹس کے قیام سے پہلے ججز کی ٹریننگ کا فیصلہ بھی کیا گیا، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو ذمہ داری دی گئی کہ ٹریننگ کے لیے ججز کی نامزدگیاں کریں گے۔

یاد رہے کہ چند دن قبل اسلام آباد میں ماڈل کورٹس کے ججز کے لیے فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق تقریب میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ پالیسی ساز کمیٹی 24 جون کو سول اور فیملی ماڈل کورٹس کا فیصلہ کرے گی، کرایہ داری اور مجسٹریٹ ماڈل کورٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ جنس کی بنیاد پر تشدد اور کم عمر ملزمان کے لیے نئی عدالتیں بنائی جائیں گی، 116 اضلاع میں خواتین پر تشدد کے خلاف عدالتیں بنا رہے ہیں، اب خواتین کو آزادی ہوگی کہ ان عدالتوں میں کھل کر بات کریں، جب کہ ملک کے تمام اضلاع میں چائلڈ کورٹس بنائے جائیں گے، جن میں عملہ سادہ لباس میں ہوگا تاکہ بچے خوف زدہ نہ ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں