استنبول: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے اہم مذاکرات ایک بار پھر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچے بغیر ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے ہیں۔ پاکستان نے مذاکرات میں انتہائی دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف اپنایا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اب صرف زبانی یقین دہانیاں ناکافی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کی کوششوں میں تعاون صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ "دوطرفہ، قابلِ پیمائش اور قابلِ نفاذ” بنیادوں پر ہو۔
پاکستان کا بنیادی اور قانونی مطالبہ
پاکستان کا بنیادی مطالبہ انتہائی واضح اور بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق تھا:
- افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا مکمل خاتمہ۔
- ان گروہوں کے رہنماؤں کی پاکستان کے حوالے حوالگی۔
- اس حوالے سے ایک تحریری اور ٹھوس یقین دہانی۔
پاکستان نے زور دیا کہ یہ مطالبہ کسی ملک کی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ تاہم، مذاکرات کے آخری مرحلے پر افغان وفد نے ٹھوس اور قابلِ عمل قدم اٹھانے سے انکار کر دیا، جس کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔
️ ذبیح اللہ مجاہد کا بیان: ‘پروپیگنڈا’
مذاکرات کے تعطل کے بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان پر پاکستان کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجاہد کا بیان دراصل ایک "گھسا پٹا روایتی پروپیگنڈا” ہے جو حقائق کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت اور فنڈنگ کے نیٹ ورک اب بھی افغانستان میں کھلے عام کام کر رہے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔
مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم کا مطالبہ
پاکستان نے افغان ریجیم کے دعوؤں کو پرکھنے کے لیے ایک ٹھوس تجویز بھی پیش کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر افغان ریجیم واقعی یہ سمجھتی ہے کہ اس کی سرزمین دہشت گردوں سے پاک ہے، تو اسے بین الاقوامی مبصرین، ترکیہ یا قطر کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم کو قبول کرنا چاہیے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے آ سکیں۔
پاکستان کا مؤقف: قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں
پاکستان نے ہمیشہ بات چیت، علاقائی تعاون اور امن کو ترجیح دی ہے اور دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے کر برادرانہ تعلقات نبھائے ہیں۔ پاکستان نے نہ افغان عوام کے خلاف کوئی اقدام کیا اور نہ ہی ان کی خودمختاری کو چیلنج کیا۔
تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں جانوں کی قربانی دینے والا پاکستان اپنے عوام کی سلامتی پر کسی سمجھوتے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان صرف بیانات نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا تقاضا کر رہا ہے، کیونکہ پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب وعدوں کے ساتھ عمل بھی ہو۔


