The news is by your side.

Advertisement

استنبول میں 200 پاکستانی محصور، وزیراعظم کا واپس لانے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے نے اے آر وائی نیوزکی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے استبنول میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس واطن لانے کا حکم جاری کردیا، ان کے لیے طیارہ آج روانہ ہوگاامید ہے رات بارہ بجے کے بعد وہ وطن پہنچ جائیں گے

اے آر وائی نیوز نے استنبول میں پاکستانی باشندوں کے محصور ہونے کی خبر نشر کی تھی جس کا وزریراعظم نے نوٹس لیا اور ہم وطنوں کو فوری واپس لانے کی ہدایت دی۔


100 Pakistani stranded at Istanbul airport by arynews

وزیراعظم نواز شریف نے ہدایت دی ہے کہ ہم وطنوں کو واپس لانے کے لیے اگر خصوصی پروازوں کی ضرورت ہے تو انتظامات کیے جائیں کوئی کسر نہپں چھوڑی جائے،ہدایات پر عمل کرتے ہوئے استنبول میں محصور شدہ پاکستانیوں کی واپسی کے لیے پاکستان قومی ایئر لائن نے منصوبہ ترتیب دے دیا جس کے تحت 150 محصور طیاروں کو وطن واپس لانے کے لیے طیارہ آج ترکی روانہ ہوگااور رات بارہ بجے کے بعد کسی بھی وقت پاکستانی باشندے وطن میں ہوں گے۔

چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ ترکی میں غیر یقینی صورتحال کے سبب مشکلات کا سامنا ہے، طیارے کی گرائونڈ ہینڈلنگ اور فیول کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں، پاکستانیوں کی واپسی کے لیے وزارت خارجہ سے رابطے میں ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ترکی میں اس وقت 150 سے زائد پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں۔ وہاں محصور پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ انتظامیہ ہمیں کچھ نہیں بتارہی۔

200 پاکستانی محصور ہیں، ترک پریس اتاشی

ترکی کے پریس اتاشی عبدالاکبر نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس وقت ایئرپورٹ پر دوسو کے قریب پاکستانی محصور ہیں، استنبول ایئرپورٹ پر فلائٹس کا شیڈول متاثر ہوا تھا لیکن اب فلائٹس کا شیڈول بحال ہوچکا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستانی باشندوں کی واپسی کے لیے جو کچھ کرسکے کریں گے۔

اس حوالے سے ترکش ایئرلائن نے کہا ہے کہ مسافروں کو لینے کے لیے ہمارا طیارہ ٹی کے 708 روانہ ہورہا ہے جو آج رات مسافروں کو ساڑھے بارہ بجے لے وطن پہنچ جائے گا۔

استنبول ایئرپورٹ پر سفارتخانے کے دو اہلکار تعینات

دفتر خارجہ کے ترجمان زکریا نفیس نے کہا ہے کہ استنبول ایئرپورٹ پر موجود تمام پاکستانی خیریت سے ہیں، ایئرپورٹ پر سفارت خانے کے دو افسران تعینات کردیے ہیں جو پاکستانیوں کی  ہر ممکن مدد کریں گے اور ان کی روانگی تک ایئرپورٹ پر موجود رہیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں