The news is by your side.

Advertisement

اٹلی کی نرس جسے کرونا وائرس لگنے کا کوئی خطرہ نہیں

روم: اٹلی کے ایک اسپتال میں ایسی نرسوں نے کام شروع کر دیا ہے جنھیں کرونا وائرس لگنے کا کوئی خوف نہیں، یہ نرسیں بلا خوف و خطر کو وِڈ نائنٹین میں مبتلا مریضوں کے علاج میں ڈاکٹرز کی مدد کر رہی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرونا کے مریضوں کا علاج اب روبوٹ کریں گے، ڈاکٹروں کو مریض کے قریب جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، اٹلی کے علاقے لمبارڈی کے شہر وریز کے سرکولو اسپتال میں کرونا مریضوں کے علاج کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ نرسیں متعارف کرائی گئی ہیں۔

یہ نرسیں نہ صرف مریض کا طبی معائنہ کریں گی بلکہ اسے دوا بھی کھلائیں گی، اور اس کا پورا طبی ڈیٹا بھی محفوظ کرتی جائیں گی، اس طرح طبی عملہ بھی وائرس کی منتقلی سے محفوظ رہے گا۔

روبوٹ نرس ٹومی، جو کرونا وائرس کے مریضوں کا اچھی طرح سے خیال رکھ سکتی ہے

اٹلی : کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر نرس نے خودکشی کرلی

ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 ایسی روبوٹ نرسیں بنائی گئی ہیں، جو ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر کرونا کے مریضوں کی جانیں بچا رہی ہیں، اور انھیں ماسک پہننے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، یہ نرسیں مریضوں کا انسان نرس ہی کی طرح خیال رکھ سکتی ہیں۔

مذکورہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسسکو دنتالی کا کہنا تھا کہ یہ روبوٹ نرسیں بچوں کے قد جتنی ہیں، ان کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں، جب یہ پہیوں پر مریضوں کے کمرے میں جاتی ہیں تو ڈاکٹر ان مریضوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کی حالت زیادہ تشویش ناک ہوتی ہے۔

ان روبوٹس کے چہرے ٹچ اسکرین پر مبنی ہیں جس پر مریض ڈاکٹرز کے لیے اپنا پیغام ریکارڈ کرا سکتے ہیں، ان میں سے ایک روبوٹ کو ٹومی کا نام دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اٹلی میں 4 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز کرونا مریضوں کے علاج کے دوران وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں 66 ڈاکٹرز اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اب تک اٹلی میں وائرس سے 13,155 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں