The news is by your side.

Advertisement

ایپل اورسام سنگ کو قانونی مشکلات کا سامنا

روم: اٹلی میں ایپل اورسام سنگ کمپنی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے کہ وہ اپنے آلات میں قلیل المعیاد رکھنے والے پرزوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے صارفین نیا ماڈل خریدیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایپل اورسام سنگ پر اٹلی کے ٹیکنالوجی سے متعلقہ ماہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’یہ ان کی کاروباری پالیسی ہوتی ہے کہ کچھ ٹیکنیکل پرزوں کی عمرکم رکھی جائے تاکہ ان کی کارکردگی متاثرہو اورصارف کچھ عرصے نیا ماڈل خریدنے پر مجبور ہوجائے’’۔

عالمی معروف کمپنی ایپل نے الزامات کے ردعمل میں کہا ہے کہ ماڈل کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ایسے پرزے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جن سے یہ آلات کم توانئی استعمال کرتے ہوئے اپنی پرفارمنس دے سکیں جس کے سبب کچھ عرصے بعد انکی عمر تمام ہوجاتی ہے اوروہ مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

میرا’آئی فون 6‘ اچانک کیوں سست ہوگیا

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جب کمپینیز سے استسفار کیا گیا کہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ان کی مصنوعات پرکیا اثرات ہوتے ہیں تو انہوں نے اس کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیا۔

 یاد رہے کہ گزشتہ سال  دسمبر میں امریکی کمپنی ایپل نے ماہرین کے دباؤ کیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے آئی فون کے سابقہ ماڈلز کی رفتار سست کرتے ہیں جس پر کہا گیا تھا کہ یہ کسی طور پر درست نہیں کہ صارفین کو اس طرغ نیا ماڈل خریدنے کی جانب راغب کیا جائے۔

تاہم ایپل نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسا جان بوجھ کرنہیں کرتے بلکہ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ پرانے ہوجانے والے پرزے اپنی پرفارمنس دکھا سکیں اور صارفین کا فون بند نہ ہو‘ ان کے مطابق جب فون کم رفتار پر چلتا ہے تو وہ کم توانائی استعمال کرتا ہے اور جلدی بند نہیں ہوتا۔

دوسری جانب  فرانس میں  سام سنگ کمپنی پہلے ہی متعدد مقدمات کا سامنا کررہی ہے، جن  میں سے ایک میں ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا  ہے کہ وہ الیکٹرانک آلات کے مینو فیکچرنگ پلانٹس میں بچوں سے مبینہ طورپرکام لیتی ہے۔

واضع رہےالیکٹرانک الٓات بنانے والی ایپل اورسام سنگ کمپنی کی دنیا بھرمیں  کروڑوں صارفین موجود ہیں جو کہ نہ صرف یہ کہ ان کمپنیز کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں بلکہ انہیں اسٹیٹس سمبل بھی سمجھتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں