The news is by your side.

Advertisement

اگلا وزیر اعلیٰ مسلم لیگ ن سے ہو، یہ ضروری نہیں، سرفراز بگٹی

کراچی: بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ثنا اللہ زہری کو ہٹانے کا آئینی طریقہ اختیار کیا، یہ ضروری نہیں کہ آئندہ وزیراعلیٰ مسلم لیگ ن کا ہی ہو، تحریک عدم اعتماد کا حصہ بننے والے اراکین کو پیسوں اور وزارتوں کی پیش کش کی گئی۔

اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کا حصہ تھا اور ہوں تاہم اگر پارٹی نے کوئی ایکشن لیا تو سیاست کے لیے کسی دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتا ہوں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ احتساب ایوان کے اندر سے ہوا اور اس کام سے جمہوریت کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوئی، وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا‘۔

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ‌ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

سرفراز بگٹی نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضروری نہیں کہ بلوچستان کا اگلا وزیر اعلیٰ مسلم لیگ ن سے ہی ہو، اس ضمن میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں اور ہم خیال لوگوں سے رابطے کریں گے‘۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ’وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ بننے والے اراکین کو پیسوں اور وزارتوں کی پیش کش کی گئی مگر اتحادیوں نے سب کچھ ٹھکرا دیا، بلوچستان کی اگلی حکومت ساتھیوں کی مشاورت کے بعد ہی تشکیل دی جائے گی‘۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ انتخابات کے بعد بلوچستان کا وزیراعلیٰ جیالا ہوگا، بلاول

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن میں جمہوریت نہیں آمریت آگئی ہے اور یہ چیز پاکستان کے لیے اچھی نہیں، ایسی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں جس کی وجہ سے سی پیک متاثر ہو جبکہ ہم اس منصوبے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں‘۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم ثنا اللہ زہری نے اُس سے قبل ہی اسپیکر اسمبلی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا جسے گورنر بلوچستان نے منظور کرلیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں