The news is by your side.

Advertisement

جیکب آباد: درندہ صفت ملزم کی 12 سالہ لڑکے سے مبینہ زیادتی

جیکب آباد: اندرون سندھ میں بچوں سے مبینہ زیادتی کا سلسلہ رک نہ سکا، پیر جو گوٹھ میں ننھی ملائکہ اور پنوں عاقل میں معصوم آفاق کے بعد جیکب آباد میں بھی ایک بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناڈالا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا واقعہ تھانہ اے سیکشن ٹھل کی حدود گاؤں مورجو کنواں میں پیش آیا،جہاں منظور عرف بچھو سرکی نامی ملزم نے بارہ سالہ لڑکے محمد یوسف کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگیا۔

واقعے کے بعد متاثرہ بچے کے والد نے تھانے میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی، پولیس نے ایف آئی آر کا اندراج کرتے ہوئے متاثرہ لڑکے کو میڈیکل چیک اپ کیلئے تعلقہ اسپتال ٹھل منتقل کیا اور ملزم کی تلاش شروع کردی تاحال ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

اندورن سندھ میں بچوں اور بچیوں سے مبینہ زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل رواں ماہ کی چھ تاریخ کو نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے والے بچے آفاق کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور سفاک ملزم نے بچے کی لاش کو مسجد کی چھت پر پھینک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  خیرپور: ایک اور ننھی کلی مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل

رواں سال جنوری میں خیرپور کے علاقے پیر جو گوٹھ مونیکا لاڑک نامی ننھی کلی کو اغوا کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، جس کی لاش گوٹھ ہادل شاہ سے دو روز بعد ملی تھی، بچی کا تعلق غریب گھرانے سے ہے اور وہ گھروں میں جھاڑو لگانے کا کام کرتی تھی اور کام سے واپس آتے ہوئے اغوا ہوئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں