جیکب آباد (20 مئی 2026): سندھ کے شہر جیکب آباد میں پسند کی شادی کے تنازع پر گاؤں نذرِ آتش کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متاثرہ خاندانوں اور مخالف برادری کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں ڈیڑھ سو سے زائد گھروں کو آگ لگائے جانے کے بعد نامزد افراد کے حامی اپنے سردار کے حق میں متحرک ہو گئے ہیں۔ مخالف گروہ کے بعض افراد متاثرین کے پاس پہنچے اور مبینہ طور پر ان سے مقدمے میں سردار صدام حسین کا نام شامل نہ کرنے کی منت سماجت کرتے رہے۔
تاہم متاثرہ خاندانوں نے کسی بھی دباؤ یا مفاہمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور قانونی کارروائی جاری رکھنے کے مؤقف پر قائم ہیں۔
جیکب آباد میں پسند کی شادی پر پورا گاؤں جلا دیا گیا
دوسری جانب مقدمے کے مدعی نے عدالت میں مزید تین افراد کو کیس میں شامل کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ درخواست میں سردار صدام حسین، سردار احمد علی اور خدا ڈینو کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
عدالت نے مذکورہ تینوں افراد کو آج طلب کر رکھا ہے، جب کہ کیس کی سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


