The news is by your side.

Advertisement

جہانگیر ترین کیس، عدالت نے خفیہ انکوائری رپورٹ طلب کر لی

لاہور: سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے سے خفیہ انکوائری رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع بھی کر دی۔

تفصیلات کےمطابق آج لاہور کے سیشن عدالت میں جہانگیر ترین اور ان کے صاحب زادے علی ترین کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، ان کے وکیل سلطان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین پر 3 ایف آئی آرز ہیں، جب کہ ایف آئی اے نے ساڑھے 4 ماہ کے وقفے کے بعد 2 مقدمات درج کیے۔

بیرسٹر سلطان صفدر نے کہا ایف آئی اے کے مطابق بینکنگ کورٹ کیس بھی اسی عدالت میں ٹرانسفر ہونا چاہیے، ایف آئی اے کی تفتیش میں جہانگیر ترین اور علی ترین پیش ہو رہے ہیں، دونوں پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، ایف آئی اے واضح کرے کہ منی لانڈرنگ کی دفعات ختم کر رہی ہے یا نہیں۔

وکیل نے یہ استدعا بھی کی کہ کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کی جائے کیوں کہ کرونا کے باعث حالات کافی خراب ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کچھ ریکارڈ آنا ابھی باقی ہے، جیسے ہی ریکارڈ موصول ہوگا تفتیش مکمل کر لیں گے، کچھ ملزمان نے بھی ابھی انویسٹی گیشن جوائن نہیں کی۔

دریں اثنا، ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور علی ترین کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، جج نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا انکوائری رپورٹ بھی ریکارڈ میں موجود ہے، تفتیشی افسر نے کہا کہ انکوائری رپورٹ خفیہ رپورٹ ہے اس لیے پیش نہیں کی، جس پر عدالت نے خفیہ انکوائری رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

بعد ازاں، سیشن کورٹ میں جہانگیر ترین کی درخواست ضمانت پر سماعت 3 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

جہانگیر ترین نے سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلد ہی ان کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی، ہم نے مشترکہ طور پر جدوجہد کی ہے۔ کیس کے سلسلے میں انھوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا جو ایف آئی آرز ہوئی ہیں اس میں میرا کوئی قصور نہیں، یہ کیس ایف آئی اے کا ہے ہی نہیں، عدالت سے انصاف ضرور ملے گا۔

واضح رہے کہ آج بھی جہانگیر ترین کے ساتھ ہم خیال 23 ارکان صوبائی اسمبلی، اور مشیر عدالت پہنچے، ہم خیال 5 اراکین قومی اسمبلی بھی پیشی کے موقع پر موجود تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں