site
stats
پاکستان

نااہلی کیس: جہانگیر ترین کے جواب میں بے ایمانی نظر نہیں آتی: عدالت

اسلام آباد: جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کےجواب میں بے ایمانی نظر نہیں آتی۔ جواب کے مطابق غیر ملکی کرنسی قانون کے مطابق خریدی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔

جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسٹیٹ بینک اور ٹیکس حکام نے کبھی ٹرانزیکشنز پر اعتراض نہیں کیا۔

درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل نے دریافت کیا کہ جہانگیر ترین نے کروڑوں روپے بچوں کوتحفے میں دیے جس پر سکندر بشیر نے کہا کہ تحائف کی رقم پر بھی ٹیکس ادا کیا گیا۔ جہانگیر ترین نے تحفے بذریعہ کراس چیک دیے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بینک ریکارڈسے تو ثابت ہوگیا کہ منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔ درخواست گزار کا کیس بیرون ملک گھر ظاہر نہ کرنا تھا، جہانگیر ترین کے مطابق گھر ان کا نہیں آف شور کمپنی کا ہے۔ ان کے جواب میں بے ایمانی نظر نہیں آتی۔

درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ لندن میں جہانگیر ترین کا گھر بے نامی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بے نامی ہو بھی تو فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ جائیداد کی خریداری میں بے ایمانی تو نہیں ہوئی۔ بےنامی جائیداد کا مالک بے نامی دار ہی ہوتا ہے، رقم دینے والا نہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بے نامی ٹرانزیکشنز کو پاکستان میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ باپ بیٹے کو زمین فروخت کرے تو یہ ٹرانزیکشن فراڈ ہوتی ہے۔ جہانگیر ترین کے جواب کے مطابق غیر ملکی کرنسی قانون کے مطابق خریدی گئی۔

عدالت کا جہانگیر ترین کے وکیل سے مکالمے میں کہنا تھا کہ آپ کا کیس لیز پر لی گئی زمین پر کمزور ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top