جہانگیر ترین نااہلی کیس: زمین کی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب -
The news is by your side.

Advertisement

جہانگیر ترین نااہلی کیس: زمین کی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب

اسلام آباد: جہانگیر ترین نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ لیز پر لی گئی زمین کا ثبوت مانگا تھا، محکمہ مال کا ریکارڈ کہاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنہیں ادائیگیاں ہوئیں وہ مالک تھے یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے بینچ نے کی۔ وکیل صفائی سکندر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کی لیز والی زمین کا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے۔ 18 ہزار 6 سو ایکڑ اراضی سنہ 2010 میں لیز پر لی گئی۔

عدالت نے سوال کیا کہ عدالت نے لیز پر لی گئی زمین کا ثبوت مانگا تھا، لیز کے معاہدے رجسٹرڈ نہیں ہیں، محکمہ مال کا ریکارڈ کہاں ہے؟ وکیل نے کہا کہ لیز زمین کی ادائیگیاں کراس چیک کے ذریعے کی گئیں۔

عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جنہیں ادائیگیاں ہوئیں وہ مالک تھے یا نہیں؟ محکمہ مال کاریکارڈ دیں اس کی تصدیق محکمہ مال سے کروا سکتے ہیں۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ زمین مالکان محکمہ مال کے ریکارڈ میں کاشت کار کا نام نہیں لکھنے دیتے۔ ان علاقوں میں لیز پر کاشت کار زمین پر قبضہ کرلیتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ لیز معاہدوں پرمالک کی زمین کا نہیں لکھا کہ کتنی اور کدھر ہے۔ مطمئن کرنا ہوگا کہ جن سے زمین لیز پر لی وہ زمین کے مالک تھے یا نہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں