The news is by your side.

Advertisement

نااہلی کیس کا جو بھی فیصلہ آیا تسلیم کروں گا، جہانگیر ترین

کراچی: تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ساڑھے 18 ہزار ایکڑ زمین کی لیز کے تمام ثبوت جمع کرادیے ہیں، احتساب سے خوفزدہ نہیں ہیں، عدالت نے نااہلی کیس جو بھی فیصلہ دیا اُسے من و عن تسلیم کروں گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ ساڑھے 18 ہزار ایکڑ زمین کی لیز کے شواہد جمع کروایے ہیں، زمین کی خریداری اور لیز کی ادائیگی 150 لوگوں کو کراچ چیک کے ذریعے کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جو بھی ادائیگی کی گئی وہ بھی کراس چیک کے ذریعے ملی، بقیہ ریکارڈ جمع کررہے ہیں جو آئندہ پیر تک عدالت کو مہیا کردیا جائے گا، لیز کی زمینوں پر اس وقت بھی کاشت کاری جاری ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ 1978 میں فارمنگ کا کام شروع کیا،  1992 سے اب تک میری چار شوگر ملز ہیں،  میرا اور آصف زرداری کا نام ایک ہی سانس میں ایک ساتھ نہ لیا جائے کیونکہ عزیر بلوچ نے کسی کے لیے زمینوں پر قبضوں سے متعلق بیان دیا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماء نے کہا کہ احتساب سے نہیں ڈرتے اس لیے سب کو پیش کش کی کہ میرا اور عمران کا احتساب کرلیں، چیئرمین پی ٹی آئی لوگوں کی امید ہیں ، عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہی آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ زمین پر لیز سے متعلق کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک مکمل ہوجائے گی، عدالت نے جو بھی فیصلہ دیا اُسے من و عن تسلیم کریں گے۔ چیئرمین نیب کی تعیناتی پر جہانگیر ترین نے کہا کہ نیب کے سربراہ مک مکا کرتے ہیں یا نہیں اس بات کا جلد سب کو پتہ چل جائے گا کیونکہ قومی احتساب بیورو میں اہم مقدمات زیر سماعت ہیں۔

جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ  شاہد خاقان عباسی نااہل شخص کو اپنا وزیراعظم کہتے ہیں، قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ تمام تر صورتحال کو دیکھ کر کیا گیا تاہم اپوزیشن لیڈر بننے سے متعلق فیصلہ عمران خان کا اپنا ہے، اگر چیئرمین اپوزیشن لیڈر نہ بنے تو شاہ محمود قریشی کو قائد حزب اختلاف کے لیے منتخب کیا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں