جہانگیرترین کے سیاسی سفر پر ایک نظر -
The news is by your side.

Advertisement

جہانگیرترین کے سیاسی سفر پر ایک نظر

سپریم کورٹ نے نا اہلی کیس میں عمران خان کو بری کرتے ہوئے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیرترین کو نااہل قراردے دیا‘ انہوں نے 2011 میں تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیرترین سماعت میں درست جواب نہیں دےرہےتھے‘ آف شورکمپنیاں ان کی ملکیت ہیں۔ اسی سبب وہ انسائیڈرٹریڈنگ کےجرم کےمرتکب قرار پائے ہیں۔

آئیے جہانگیر ترین کے سیاسی کیریئر پر نظر ڈالتے ہیں۔۔


جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری ہیں اور عمران خان کے قریب ترین ساتھی شمار کیے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں انہیں سب سے بااثر ترین شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین سنہ 1953 کو پیدا ہوئے، انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی اور ایف سی کالج لاہور سے گریجویشن کیا۔وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ روانہ ہو ئے اورسنہ 1974 میں ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

جہانگیرترین نےپنجاب یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں تدریس بھی کی۔ انھوں نے 2002 میں سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو ق لیگ کے ٹکٹ پر این اے ایک سو پچانوے رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے‘ وہ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کےمشیر برائے امورِ زراعت رہے۔

 عمران خان بری/ جہانگیر ترین نا اہل قرار

سابق صدر پرویز مشرف کی حکومت میں انہوں نے صنعت اور پیداوار کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے کام کیا۔ جہانگیر ترین 2008 میں فنکشنل لیگ کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بنے اور پھر 2011 میں انھوں نےتحریک انصاف میں شمولیت اختیارکرلی۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے انھیں 2013 میں پی ٹی آئی کا جنرل سیکریٹری بنایا، وہ 2013 کے الیکشن میں این اے 154 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ‘ تاہم 2015 کے ضمنی الیکشن میں اسی حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

آج 15 دسمبر 2017 کو مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں تکنیکی بنیادوں پر تاحیات نا اہل قرار دیا ہے۔ تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان کی نا اہلی کو تکنیکی قرار دیتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ کیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہارکریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں