The news is by your side.

Advertisement

نااہلی کیس، عدالت نے جہانگیرترین سے آف شورکمپنی کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد : تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کیس کی سماعت میں عدالت نے آف شورکمپنی کی تفصیلات طلب کرلیں، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ صرف خیالات یا فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے ، جہانگیرترین نے بظاہرکسی کےساتھ فراڈنہیں کیا۔

سپریم کورٹ میں جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، عدالت نے جہانگیرترین سے آف شورکمپنی کی تفصیلات طلب کرلیں اور سوال کئے کہ بتایا جائے ٹرسٹ کا قیام کب اور کیسے عمل میں آیا، آف شورکمپنی کب اور کیسے قائم ہوئی،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ تحائف کا آف شورکمپنی سے کیا تعلق ہوسکتاہے؟ بچوں سے تحفے لینے یا دینے میں قانون کی کیاخلاف ورزی ہوئی؟

جس پر وکیل جہانگیرترین نے کہا کہ تحائف پرٹیکس حکام کومطمئن کرچکےہیں، ٹیکس کا ایک معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔

اس سے قبل حنیف عباسی کے وکیل نےمتفرق درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ جہانگیرترین نے بچوں کو 1.479 ارب روپے تحفے میں دئیے جبکہ 2010 میں انکو بچوں سے آٹھ کروڑ75لاکھ تحفے میں ملے، جہانگیرترین کو ایس ای سی پی نے بھی قصوروار قراردیا تھا کہ آف شور کمپنی کو چھپایا گیا۔

وکیل نے استدعا کی کہ ان حقائق کی روشنی میں جہانگیرترین کونااہل قرار دیا جائے۔

جس پر جسٹس عمرعطا نے استفسار کیا کہ جودستاویزات دے رہے ہیں، وہ کہاں سے آئیں، جس پرحنیف عباسی نےجواب دیا کہ یہ تمام دستاویزات سوشل میڈیا پر ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے اپنے ریماکس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر دستخط شدہ مواد نہیں تھا، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ دیکھناہوگاسوشل میڈیاپر کس نے جہانگیرترین کا مواد اپ لوڈ کیا،جسٹس عمر نے سوال کیا کہ جہانگیر ترین کسطرح فراڈ کے مرتکب ہوئے؟ نقصان کس کو ہوا، کیسے ہوا واضح کیا جائے۔

سماعت میں چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا ایس ای سی پی اور جہانگیرترین کا معاملہ عدالت میں گیا؟ کیا 500ارکان اسمبلی میں کسی کو ایف بی آر نوٹس دے تو وہ نااہل ہوگا، جس پر حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے ایس ای سی پی میں جرم تسلیم کیا اورجرمانہ دیا، جہانگیرترین آج بھی ایس ای سی پی کی کارروائی سےانکاری نہیں ہوسکتے۔

چیف جسٹس کہا کہ جرمانہ ادا کرنے پر ایس ای سی پی اور جہانگیر ترین کا معاملہ ختم ہوگیا، جو معاملہ ختم ہوگیا اس پر آرٹیکل 62کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا کوئی صرف جرمانہ دینے پر صادق اورامین نہیں رہتا؟ آپ چاہتے ہیں ہم کہیں12سال بعد جہانگیرترین صادق نہیں رہے، جرمانہ تو انکم ٹیکس قوانین میں بھی ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین کے معاملے کو جرم کیسے تسلیم کریں؟ رضاکارانہ رقم واپس کرنے والا تو صادق ہوتا ہے،چیف جسٹس
جہانگیرترین قانونی چارہ جوئی کے جھنجٹ میں نہیں پڑناچاہتے، جہانگیرترین نے بظاہر کسی کے ساتھ فراڈ نہیں کیا،صرف خیالات یافرضی باتوں پرکسی کونااہل نہیں کرسکتے۔

عدالت نے جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں جہانگیرترین پر آف شورکمپنی ، منی لانڈرنگ اوراثاثے چھپانے کا الزام ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں