The news is by your side.

Advertisement

‘تمام کاغذات ہونے کے باوجود بلڈوزر چلائے گئے’، جہانگیر پوری متاثرین کی روداد

نئی دہلی: بھارت دارالحکومت کے تشدد زدہ علاقہ جہانگیر پوری میں گزشتہ روز تجاوزات کے نام پر کی گئی انہدامی کارروائی کا نشانہ یوں تو مسلم طبقہ سے وابستہ لوگ ہی بنے لیکن اکثرتی طبقہ سے وابستہ افراد بھی اس کی زد میں آ گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق گنیش گپتا بھی ایسے دکانداروں میں شامل ہیں جن کے ذریعہ معاش پر بی جے پی کی حکمرانی والے ایم سی ڈی نے بلڈوزر چلا دیا، گپتا کی علاقہ میں جوس کی دکان تھی، جسے منہدم کر دیا گیا، گنیش نے اب سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے معاوضہ کا مطالبہ کردیا ہے۔

متاثر گنیش گپتا نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ نارتھ ایم سی ڈی کو اسے ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے اور عوامی مفادات کو فروغ دیتے ہوئے اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں کی دکانیں مسمار کرنے پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ انہدامی کارروائی مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے اور ایم سی ڈی قانون کی دفعہ 343، 347 بی اور 368 کی خلاف ورزی ہے۔ ایم سی ڈی قانون کی دفعہ 343 اور 368 کے تحت یہ واضح ہے کہ متاثرہ شخص کو وجہ بتاؤ نوٹس دیا جانا چاہئے اور اسے اس بات کا جواب دینے کے لئے وقت دیا جانا چاہئے کہ انہدام کی کارروائی کیوں نہیں کی جانی چاہئے؟

دوسری جانب دفعہ 343 میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی عمارت میں کوئی غیر قانونی تعمیر کی ہے یا کرنے والا ہے تو اسے ہٹانے یا گرانے کا حکم جاری کرنے کی تاریخ سے کم از کم پانچ دن کا وقت دیا جانا چاہیے۔

اسی طرح دفعہ 347بی کے مطابق کوئی بھی شخص کمشنر کی اجازت کے بغیر کسی بھی زمین کو استعمال یا تبدیل نہیں کر سکتا، دفعہ 368 میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمارت انسانی استعمال کے لیے محفوظ نہیں ہے تو اسے کم از کم تیس دن کا نوٹس دے کر گرایا جا سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں