The news is by your side.

Advertisement

عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میں‌ سرِفہرست جام ساقی کا یومِ وفات

آج پاکستان میں عوام کے حقوق کی جدوجہد اور سیاسی محاذ پر اپنے نظریات اور فکر و فسلفے پر ڈٹے رہنے والے جام ساقی کی برسی منائی جارہی ہے۔ وہ پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے عہدے دار تھے جنھوں نے حیدرآباد میں 5 مارچ 2018ء کو ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔ وفات کے وقت ان کی عمر 74 برس تھی۔

جام ساقی نے غیر طبقاتی سماج کے لیے جہدِ مسلسل کے دوران مفاہمت کا راستہ اپنایا اور نہ ہی ہتھیار ڈالے بلکہ ہر قسم کی مشکلات جھیلتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں میں سر فہرست رہے۔ وہ پاکستان کی عوامی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جس نے کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔

جام ساقی 31 اکتوبر 1944ء کو تھرپارکر کی تحصیل چاچھرو کے ایک چھوٹے سے گاؤں جھنجھی میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی پہلی سوشلسٹ ریاست سوویت یونین جرمن فوج کو شکست دینے والی تھی۔ جنگ اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سنتے ہوئے جام ساقی ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بعد میں چھاچھرو سے میٹرک کیا اور مزید تعلیم حاصل کرنے حیدرآباد چلے گئے اور وہیں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

حیدرآباد اور بعد میں سندھ یونیورسٹی میں وہ طلبہ تنظیموں میں سرگرم رہے اور بائیں بازو کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انھوں نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور ان کا شمار چار مارچ کی سندھ کی طلبہ تحریک کے ہیروز میں ہوتا ہے۔

جام ساقی کو سیاسی و عوامی جدوجہد کے دوران بڑا عرصہ زیرِ زمین روپوش رہ کر یا جیلوں میں گزارنا پڑا۔ اسیری کے دوران صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ 1980ء کی دہائی میں کمیونسٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں گرفتار ہوئے اور بعد میں یہ کیس جام ساقی کیس کے نام سے مشہور ہوا جس کی سماعت کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو، ولی خان، غوث بخش بزنجو جیسی سرگرم سیاسی شخصیات ان کی گواہی دینے پہنچی تھیں۔ انھوں نے بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی، لیکن یہ سفر جلد تمام ہو گیا۔

کامریڈ جام ساقی نے سندھی میں ناول کھاڑوی کھجن تحریر کیا جب کہ جام ساقی کیس کی تفصیلات اور بیانات ’آخر فتح عوام کی ہو گی‘ اور ’ضمیر کے قیدی‘ کے نام سے محفوظ کیے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں