جماعت اسلامی بنگلادیش کے منتخب ارکان پارلیمنٹ نے سرکاری گاڑیاں اور رہائش گاہیں نہ لینے کا اعلان کر دیا۔
بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جماعت کے منتخب اراکین پارلیمنٹ سرکاری پلاٹ یا مراعات نہیں لیں گے اور ویسی ہی زندگی گزاریں گے جیسے وہ گزار رہے ہیں۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ "جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کوئی سرکاری پلاٹ قبول نہیں کریں گے ہماری زندگیاں ویسے ہی رہیں گی جو اب ہیں ہم اس وجہ سے ٹیکس فری کاریں بھی نہیں لیں گے۔”
شفیق الرحمان نے یہ اعلان 14 روزہ بیرون شہر دوروں کے بعد واپسی پر سلہٹ شہر میں معززین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "لوگ ہمیں ان پر ٹیکس لگانے کے لیے ووٹ نہیں دیں گے بلکہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمیں ووٹ دیں گے ہماری سیاست تب ہی کامیاب ہوگی جب ہم ان حقوق کی حفاظت کر سکیں گے۔ ورنہ ہم ناکام ہیں اور ہم ناکام نہیں ہونا چاہتے، تاہم اگر ہم غلطیاں کرتے ہیں تو ہم کڑی تنقید چاہتے ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی انتظامی رکاوٹیں ہیں جو تارکین وطن بنگلا دیشیوں کو ووٹ ڈالنے سے روکتی ہیں اور یہ کہ ان کی پارٹی نے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ "ہم نے کل حکومت کو ایک وفد بھیجا تھا جس میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے سفارشات کی گئی تھیں اور حکومت نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ کوشش کریں گے۔”
جماعت کے سربراہ نے کہا، "ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قومی ترقی کے تمام شعبوں میں تارکین وطن کی نمائندگی بیرون ملک ان کی تعداد کے متناسب ہو۔ یہی انصاف ہے۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


