جمال احسانی وہ شاعر ہیں جن کے کلام میں نزاکت اور لطافت کے ساتھ جدید لب و لہجہ اور تازگی ہے یہ شعر دیکھیے جس میں شاعر نے بڑی سہولت سے ترکِ محبّت یا وعدہ فراموشی کا جواز پیدا کیا ہے:
یاد رکھنا ہی محبّت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
فاطمہ حسن ’’کلیات جمال‘‘ میں لکھتی ہیں، ’’جمال احسانی نے شعری سفر کا آغاز’’ستارۂ سفر‘‘ سے کیا تھا اور پہلے ہی مجموعے نے پڑھنے والوں کو متوجہ کر لیا تھا۔’’رات کے جاگے ہوئے‘‘ اس کی اگلی منزل تھی جہاں معتبر ادیب و شعرا نے اسے خوش آمدید کہا تھا اور اچھی شاعری کے امکانات بھی ثابت ہو گئے تھے۔ جمال احسانی شاعری کی ان تمام توقعات پر پورا اتری، جبھی تو ’’تارے کو مہتاب کیا‘‘ جیسا مجموعہ زندگی ہی میں مرتب کر لیا۔ اس سفر میں شاعر جمال احسانی تخلیقی کام یابی سے تو ہمکنار ہوا مگر ذاتی زندگی میں بہت کچھ ہارتا چلا گیا۔ ناداری اور بیماری سچے شعروں کے عوض اس کی جھولی میں آ گری۔ اس کی شاعری اسی سفر کی داستان ہے۔ اس دوران ذات کا اظہار ہے جس کا محور صرف اور صرف شاعری تھی۔ اسے محبت تھی تو بس شاعری سے اور وہ ہمہ وقت اسی فضا میں رہنا چاہتا تھا۔‘‘
وفورِ جذبات اور شدتِ احساس سے اردو غزل کی روایت کو سلیقے، قرینے سے نبھانے والے شاعر جمال احسانی کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ انھوں نے اپنی غزل کو تشبیہات اور استعاروں سے ایک دل کش روپ عطا کیا تھا جسے ان کے پڑھنے والوں نے بہت سراہا اور ان کے مجموعہ ہائے کلام کو پذیرائی ملی۔ معروف شاعر جمال احسانی 10 فروری 1998ء کو انتقال کر گئے تھے۔
جمال احسانی کا خاندانی نام محمد جمال عثمانی تھا۔ شعر و ادب کی دنیا میں انھیں جمال احسانی کے نام سے شہرت نصیب ہوئی۔ ان کا تعلق سرگودھا سے تھا۔ وہ 1951ء میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس کے بزرگ ہندوستان کے مشہور شہر پانی پت سے کسی زمانہ میں ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ جمال احسانی نے بی اے تک تعلیم حاصل کی اور انھیں محکمۂ اطلاعات و نشریات میں نوکری مل گئی تو وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ ان کے تخلیقی سفر اور ادبی پہچان کا آغاز پہلے ہی ہوچکا تھا۔ جمال احسانی نے صحافت بھی کی۔ وہ روزنامہ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بحیثیت معاون مدیر وابستہ رہے تھے۔ اسی تجربہ کی بنیاد پر انھوں نے ایک ادبی پرچہ کا اجرا بھی کیا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں بطور شاعر جمال احسانی کا شمار خوش گو شعرا میں ہونے لگا تھا۔ ان کا یہ شعر بہت مشہور ہوا:
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
اردو کے اس معروف شاعر کی یہ غزل بھی بہت مقبول رہی ہے:
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے
نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے
ہزار مجھ سے وہ پیمانِ وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے
تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندیٔ جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے
تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے
اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


