The news is by your side.

Advertisement

خاشقجی قتل پر امریکی رپورٹ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا

ریاض: سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ پر سعودی عرب نے ردعمل دے دیا، سعودی دفتر خارجہ نے رپورٹ کے مندرجات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی دفتر خارجہ نے سعودی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مندرجات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ سعودی حکومت اپنے شہری جمال خاشقجی کے قتل کے جرم سے متعلق کانگریس کو پیش کی جانے والی رپورٹ کے مندرجات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مبینہ رپورٹ میں سعودی قیادت سے متعلق منفی، غلط اور ناقابل قبول نتائج کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے، یہ نتائج کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہیں، رپورٹ بہت ساری غلط معلومات اور نتائج پر مشتمل ہے۔

بیان میں دفتر خارجہ نے اس حوالے سے مملکت کے متعلقہ اداروں کے سابقہ بیانات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی کا قتل سنگین جرم ہے، یہ سعودی قوانین اور اس کی اقدار کی کھلی خلاف ورزی پر مشتمل ہے، اس جرم کا ارتکاب جس گروہ نے کیا اس نے نہ صرف یہ کہ مملکت کے تمام قوانین کو پس پشت ڈالا بلکہ اس نے متعلقہ اداروں کو حاصل اختیارات کی بھی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ گروپ کے افراد کے ساتھ پوچھ گچھ کے حوالے سے تمام ضروری عدالتی اقدامات کیے گئے اور انہیں عدالت کے حوالے کیا گیا، سعودی عدالت نے ان کے خلاف حتمی سزاؤں کے فیصلے سنائے جن پر جمال خاشقجی کے اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس جیسی رپورٹ جو غلط اور ناقابل قبول نتائج پر مشتمل ہے ایسے وقت میں جاری کی گئی جب سعودی عرب اس گھناؤنے جرم کی مذمت کر چکا ہے اور اس کی قیادت اس قسم کے افسوسناک واقعات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کر چکی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی قیادت، ریاستی بالا دستی اور عدالتی خود مختاری کو زک پہنچانے والی ہر بات کو مسترد کرتا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور امریکا کے درمیان شراکت مضبوط اور مستحکم ہے، دونوں ملکوں کے ریاستی ادارے مختلف شعبوں میں شراکت کے استحکام کے لیے کوشاں ہیں، خطے اور عالمی امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون اور زبردست یکجہتی پیدا کیے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر سنہ 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع قونصلیٹ میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ اپنی طلاق سے متعلق کاغذی کارروائی مکمل کروانے وہاں گئے تھے۔

انٹرنیشنل نیوز نیٹ ورکس کے رپورٹرز کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق رپورٹ شواہد اور معتبر معلومات سے خالی ہے۔ رپورٹ کے اجرا کے بعد امریکی دفتر خارجہ نے بیان جاری کر کے کہا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں