The news is by your side.

Advertisement

کرونا: کیا ’’جیمز بانڈ‘‘ مبینہ سازش کو بے نقاب کرسکتا ہے؟

خفیہ ایجنٹ 007 کی شہرت دنیا بھر میں ہے۔ اسے آپ ’’جیمز بانڈ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

ہالی وڈ کی بلاک بسٹر سیریز میں لگ بھگ سات دہائیوں سے اس کردار کو شائقین کی بھرپور توجہ اور دل چسپی حاصل ہے۔

جیمز بانڈ کے کردار کو 1953 میں تخلیق کیا گیا تھا۔ یہ معروف ناول نگار ایان فلیمنگ کی اختراع ہے۔ انھوں نے بانڈ سیریز کے بارہ ناول لکھے۔

1964 میں وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو خفیہ ایجنٹ کے اس سلسلے کو دوسرے چھے ناول نگاروں نے لکھنا شروع کیا اور خطروں سے کھیلنے والے اس پُرسرار کردار پر متعدد ڈرامے اور فلمیں بنائی گئیں۔

برطانوی خفیہ ایجنٹ جیمز بانڈ کے اس مقبولِ عام کردار کو اپنے وقت کے نام ور اداکاروں نے نبھایا اور شائقین کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

اس کردار کے خالق نے ناول میں بتایا تھا کہ جیمز بانڈ ایک سفید فام وجیہہ مرد ہے، جسے دنیا ایجنٹ 007 کے نام سے جانتی ہے۔

اس کردار نے خطروں سے کھیلتے ہوئے اپنے اسٹائل اور مخصوص اشیا جیسے گلاسز، ہیئراسٹائل، کوٹ اور ٹائی کے علاوہ بندوق تھامنے کے منفرد انداز سے بھی شائقین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ مداحوں نے یہی گیٹ اپ اپنایا اور اسی کی طرز کا لباس اور ہیئر اسٹائل بنانے لگے، جو جیمز بانڈ کی شخصیت سے ان کے بے حد متاثر ہونے کا ثبوت ہے۔

فلمی دنیا میں ’’جیمز بانڈ‘‘ کا سفر طویل اور مالی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا۔

1962 میں بانڈ سلسلے کی پہلی فلم ’’ڈاکٹر نو‘‘ تھی اور اداکار شین کونری کا اس ایجنٹ کے روپ میں سامنے آنا گویا تہلکہ خیز ثابت ہوا، اس اداکار نے سنیما کے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ جیمز سیریز میں بانڈ گرل کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس کے لیے اداکارہ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

’’جیمز بانڈ‘‘ نے کئی اہم اور مشکل ترین کام انجام دیے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جہاں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اس کا علاج دریافت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر مختلف مفروضے گردش میں ہیں جن میں وائرس کو لیبارٹری میں تیار کردہ حیاتیاتی ہتھیار اور اس کے ذریعے مخصوص ممالک کی معیشت کو برباد کرکے مفادات کی تکمیل بتایا جارہا ہے۔ تاہم عام آدمی کے لیے اس کی حقیقت جاننا آسان نہیں۔

کیا جیمز بانڈ جیسا ذہین اور شاطر ایجنٹ اس سازش کو بے نقاب کرسکتا ہے؟

Comments

یہ بھی پڑھیں