The news is by your side.

Advertisement

1920: نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک تاریخی حیثیت کی حامل درس گاہ ہے جس کی بنیاد انگریز دور میں اس وقت کی نہایت قابل، باصلاحیت شخصیات اور جذبۂ حریت سے سرشار علما اور بیدار مغز راہ نماؤں نے رکھی تھی۔ یہ صرف مسلمان قیادت نہ تھی بلکہ گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسی شخصیات نے بھی اس میں اپنا حصّہ ڈالا تھا۔

یہ یونیورسٹی 1920 کی یادگار ہے جسے علی گڑھ میں قیام کے صرف پانچ برس بعد یعنی 1925 میں دہلی منتقل کر دیا گیا۔ تقسیم کے بعد ہندوستانی سرکار نے اسے قانونی طور پر یونیورسٹی کا درجہ دے کر مل کی بڑی درس گاہوں میں شمار کیا۔

علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے والوں میں مولانا محمود حسن دیوبندی، محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبد المجید خواجہ اور ذاکر حسین کے نام سرِفہرست ہیں جو اپنے وقت کی انتہائی قابل شخصیات اور آزادی کے متوالے شمار ہوتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام اس زمانے میں تحریکِ حریت کو آگے بڑھانے کے سلسلے کی ایک کڑی بھی تھا۔ یہ ادارہ اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں سے نکل کر عصری علوم میں یگانہ اور اسلامی ذہن و فکر کی حامل شخصیات معاشرے کا حصّہ بنیں۔

اس موقع پر مسلمان اور ہندو راہ نما بھی انگریز سرکار کی مخالفت میں اکٹھے تھے۔ اس درس گاہ کو انگریز سرکار کی امداد سے دور رکھ کر ایسی فضا کو پروان چڑھانا تھا جس میں ہندوستان کی آزادی کا جوش اور ولولہ محسوس ہو اور ساتھ ہی عصری تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت بھی کی جاسکے۔ ان راہ نماؤں کا مقصد یہ تھاکہ نوجوان سیاسی و سماجی طور پر مستحکم ہوں اور اپنے وطن کو آزادی کے بعد ترقی و خوش حالی کے راستے پر لے جاسکیں۔

دہلی منتقلی کے بعد حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی بے لوث اور علم دوست ہستیوں نے اس کا وقار بلند کیا اور اسے تن آور درخت بنانے کے لیے اپنا وقت دیا۔ اس جامعہ کو گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسی شخصیات کا تعاون اور ان کی حمایت بھی حاصل تھی۔

22 نومبر 1920 کو حکیم اجمل خان اس درس گاہ کے پہلے چانسلر منتخب کیے گئے جب کہ مسلمانوں کے عظیم لیڈر اور حریت پسند راہ نما محمد علی جوہر کو وائس چانسلر کا عہدہ سونپا گیا تھا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق گاندھی جی نے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال سے یہ عہدہ قبول کرنے کی درخواست کی تھی، مگر انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

شہریت کے ترمیمی قانون کے بعد بھارت میں حکومتی اقدام کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور پولیس کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر تشدد اور گرفتاریوں کی خبریں دنیا بھر میں بھارت کی رسوائی کا سبب بن رہی ہیں۔ بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ اور خصوصا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ریاستی سطح پر اس کی حمایت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں