اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

ڈاکٹر جمیل جالبی: اردو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت

اشتہار

حیرت انگیز

ڈاکٹر جمیل جالبی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنھوں‌ نے اپنی علمی اور ادبی بصیرت سے کام لے کر اردو ادب کو بیش قیمت تصانیف دیں اور بلاشبہ نئی نسل کے لیے ایک قابلِ قدر اور لائقِ صد مطالعہ اثاثہ چھوڑا ہے۔ وہ ایک نقّاد، محقق، ادبی مؤرخ، مترجم اور ماہر لسانیات تھے جو اپنے دور کی ایک بے حد فعال اور سرکردہ شخصیت رہے ہیں۔

کئی نہایت اہم اور ادق موضوعات پر قلم اٹھانے والے جمیل جالبی کا انتقال 18 اپریل 2019ء کو ہوا تھا۔ ان کی قابلیت اور علمی استعداد کا لوہا ماننے والوں‌ میں مشاہیر بھی شامل ہیں۔ جمیل جالبی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین اور اردو لُغت بورڈ کے صدر بھی رہے۔ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے انھوں نے تصنیف و تالیف سے لے کر تدوین و ترجمہ تک نہایت وقیع کام کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا تعلق علی گڑھ سے تھا۔ وہ 2 جون، 1929 کو پیدا ہوئے۔ خاندانی نام محمد جمیل خان رکھا گیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے بھائی کے ساتھ پاکستان چلے آئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سہارنپور سے مکمل کی تھی۔ وہیں سے 1943ء میں میٹرک پاس کیا اور 1945ء میں میرٹھ کالج، میرٹھ سے ایف اے کرنے کے بعد اور 1947ء میں بی اے کی ڈگری لی۔ پاکستان میں سندھ یونیورسٹی کراچی سے 1949ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ اسی یونیورسٹی سے 1950ء میں اردو میں ایم اے کیا اور پھر ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ 1971ء میں پی ایچ ڈی کے بعد انھیں 1976ء میں ڈی لٹ سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر صاحب 1950ء سے 1952ء بہادر یار جنگ اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہے۔ اس کے بعد ایک مقابلے کے امتحان میں کام یاب ہوئے اور انکم ٹیکس کے محکمے سے وابستہ ہوگئے۔ اور اسی محکمے سے بطور انکم ٹیکس کمشنر سبک دوش ہوئے۔ 1980ء میں جمیل جالبی وزارت تعلیم سے وابستہ ہوئے اور بعد میں‌ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔

علمی و ادبی میدان میں ان کا میدان تحقیق و تنقید، فکر و فلسفہ رہا۔ جمیل جالبی نے تاریخ، تعلیم اور ثقافت پر بھی مضامین سپردِ قلم کیے۔ ان کی ذاتی لائبریری ہزاروں کتابوں سے سجی ہوئی تھی جن میں کئی نادر کتابیں بھی شامل تھیں۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز کہانی لکھنے سے ہوا تھا۔ بعد میں ان کی تحریریں دہلی کے رسائل بنات اور عصمت میں شایع ہونے لگی تھیں۔ جمیل جالبی کی کتابوں میں پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ، تاریخ ادب اردو، نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، معاصر ادب وغیرہ ہیں۔ لغات اور فرہنگِ اصلاحات کے علاوہ متعدد انگریزی تراجم بھی شامل ہیں جو کتابی شکل میں شایع ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں