The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر جمیل جالبی کو ہم سے بچھڑے ایک برس بیت گیا

پاکستان کی نام ور علمی اور ادبی شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی ایک سال پہلے آج ہی کے روز اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ آج ان کی پہلی برسی ہے۔

18 اپریل 2019 کو انتقال کر جانے والے ڈاکٹر جمیل جالبی کی اردو زبان اور ادب کے لیے خدمات اور تحقیقی کاوشیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے مختلف اہم اور بعض ادق موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور اپنی قابلیت، علمی استعداد کو منواتے ہوئے محنت اور مستقل مزاجی سے کام کیا اور کئی اہم تصانیف یادگار چھوڑیں۔

پاکستان میں انھیں ایک نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ اور محقق کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ جامعہ کراچی میں وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین اور اردو لُغت بورڈ کے صدر بھی رہے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کا تعلق علی گڑھ سے تھا۔ وہ 12 جون، 1929 کو پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی نام محمد جمیل خان تھا۔

تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے بھائی کے ساتھ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہا‌ں تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور کام یابیاں سمیٹتے رہے۔

جالبی صاحب نے کہانی سے تخلیقی سفر کا آغاز کیا اور بعد میں ان کی تحاریر دہلی کے رسائل بنات اور عصمت میں شایع ہوئیں۔

ان کی کتابوں میں جارج آرویل کے ناول کا ترجمہ، پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ، تاریخ ادب اردو کے علاوہ دیگر تصانیف و تالیفات میں نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، معاصر ادب وغیرہ شامل ہیں۔ لغات اور فرہنگِ اصلاحات کے علاوہ متعدد انگریزی کتابوں کے تراجم بھی ان کا کارنامہ ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کو حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں