The news is by your side.

Advertisement

الزامات ثابت ہونے پر سینیئر سول جج نوکری سے برخاست

پشاور: سنیئر سول جج تیمرگرہ محمد جمشید کنڈی کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر انھیں نوکری سے جبری طور پر برخاست کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے ڈسپلن اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں سینئر سول جج محمد جمشید کنڈی کو نوکری سے جبری ریٹائر کر دیا۔

پشاور ہائیکورٹ نے سنیئر سول جج کی جبری رخصت کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق محمد جمشید کنڈی کے خلاف دوران سروس مس کنڈکٹ کے الزامات لگے تھے، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے ملوث جوڈیشل افسر کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز کیا۔

تحقیقات کے لیے انکوائری افسر کی جانب سے ملزم کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس کا انھوں نے جواب دیا، اس کے بعد وہ نجی سماعت کے لیے بھی پیش ہوئے اور 14 فروری کو ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری افسر نے انکوائری مکمل کر کے رپورٹ دی کہ مذکورہ جوڈیشل افسر مجرم پائے گئے ہیں، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے جوڈیشل افسر کو خیبر پختون خوا گورنمنٹ سرونٹس رولز 2011 کے تحت نوکری سے جبری طور پر برخاست کر دیا۔

جنسی زیادتی کا کیس

سنیئر سول جج پر ایک خاتون عظمیٰ شہزادی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا کیس تھا، جمشید کنڈی سینئر سول جج تیمرگرہ تھے، ان پر خاتون نے الزام لگایا تھا کہ جج نے انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں جج جمشید کنڈی کو کلیئر کیا گیا تھا، اس کے بعد ان کی درخواست پر خاتون کے خلاف کارروائی کا بھی آغاز کیا گیا تھا۔ تاہم جب ہائیکورٹ کی جانب سے انکوائری مکمل ہو گئی تو مذکورہ جج کو قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔

خاتون سے زیادتی کے الزام میں سینئرسول جج گرفتار

نومبر 2021 میں خیبر پختون خوا کے ضلع دیر کے علاقے بلامبٹ میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں جمشید کنڈی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے انھیں معطل کر دیا۔

خاتون جن کا تعلق چترال سے ہے اور پشاور میں رہائش پذیر ہے، نے ملزم پر الزام لگایا ہے کہ ان کی بہن کو نوکری دلانے کا جھانسا دے کر ملزم نے انھیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون نے سول جج کے خلاف تھانہ بلامبٹ (دیر پائین) میں ایف آئی آر درج کر وایا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کو ان کی بہن کو نوکری دلانے کے لیے 15 لاکھ روپے طلب کیے، نقد رقم نہ ہونے پر خاتون نے ملزم کو اپنے زیورات جن کی مالیت 15 لاکھ روپے بنتی ہے، دیے۔

خیبرپختون خواہ کے سینئر جج پر زیادتی کا الزام غلط ثابت، تحقیقات میں‌ ہوشربا انکشاف

لیکن بعد میں خاتون کو بتایا گیا کہ اب نوکری ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے، ایف آئی آر میں خاتون نے کہا کہ ملزم نے رابطہ کیا کہ آپ میرے ساتھ لوئر دیر بلامبٹ جاؤ تاکہ میں آپ کو رقم واپس کروں، صبح سرکاری نمبر پلیٹ گاڑی میں ان کے ساتھ بغرض رقم واپس لینے گئی، تو سرکاری کالونی کے بنگلے میں چائے پلانے کے بعد مجھ سے جنسی خواہش پوری کرنے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اس کے بعد ان کو رقم واپس کر دیں گے، انکار پر ملزم نے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اور زیورات کی رقم بھی واپس نہ کی۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ ہوا، جس میں ریپ ثابت ہوا، جس پر ملزم کو 25 نومبر 2021 کو حراست میں لے لیا گیا۔

ملزم جج رہا

بعد ازاں دسمبر 2021 میں جنسی ہراسانی کے اس کیس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر دیر کی نگرانی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تحقیقات مکمل کی، جس میں انکشاف ہوا کہ سینئر سول جج پر ریپ کا الزام لگانے والی خاتون کے خلاف پنجاب میں 8 ایف آئی آرز درج ہیں۔

دوسری جانب متعلقہ جج کی ضمانت درخواست منظور ہونے پر انھیں رہا کر دیا گیا۔

انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق سی ڈی آر سے معلوم ہوا کہ 9 نومبر سے 25 نومبر کے درمیان خاتون نے ایمرجنسی نمبر پر 15 سے 20 کالیں کیں، جن میں دو کالیں تیمرگرہ کیے گئے، جب کہ سی ڈی آر سے متعلقہ جج کی خاتون سے رابطہ بھی ثابت ہوا۔

دوران تحقیقات معلوم ہوا کہ مدعیہ نے ابتدا میں اپنا نام دعا دختر اختر حسین سکنہ نشتر آباد پشاور بتایا، تاہم شناختی کارڈ سے معلوم ہوا کہ ان کی رہائش سندھ کے علاقے خیرپور کٹھیرا گمبٹ کی ہے، خاتون نے اپنا نام اور رہائش مختلف بتائے، بعد میں ان کی شناخت عظمیٰ شہزادی کے نام سے ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خاتون سے متعلق ایس پی پنجاب سے رابطہ کیاگیا، جب کہ سی پی او لاہور نے 8 ایف آئی آرز کا ریکارڈ بھیجا، جو خاتون کا کریمینل ریکارڈ تھا۔

ایف ایس ایل رپورٹ سے بھی زیادتی کے شواہد نہیں ملے، رپورٹ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سنیئر سول جج محمد جمشید کنڈی کے خلاف کیس ختم کر دیا گیا، تاہم عدالت نے ان کے خلاف مس کنڈکٹ کے حوالے سے انکوائری کا حکم دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں