چھتیس بچے ہیں، خوف زدہ ہوں کوئی بچہ اندراج سے نہ رہ جائے census
The news is by your side.

Advertisement

چھتیس بچے ہیں، خوف زدہ ہوں کوئی اندراج سے نہ رہ جائے

کوئٹہ : کوئٹہ کے رہائشی جان محمد نے خدشہ ظاہر کیا ہے اس کی تین بیویوں سے 36 بچے ہیں جب کہ مردم شماری کے فارم میں بچوں کے اندراج کے لیے خانے کم ہیں اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے کچھ بچے اندراج ہونے سے نہ رہ جائیں۔

اے آر وائی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے رہائشی جان محمد کا کہنا تھا کہ اس کی تین بیویاں ہیں جن سے اس کے 36 بچے ہیں جب کہ مردم شماری کے فارم میں اولاد کے اندراج کے لیے اتنے خانے نہیں ہیں اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ کوئی بچہ اندراج سے رہ نہ جائے۔

جان محمد کا مذید کہنا تھا کہ فی الحال مردم شماری کا عملہ ان کا گھر نہیں آیا ہے تا ہم جو کچھ اس نے لوگوں سے سنا ہے اس سے خوف زدہ ہے کہ کہیں کسی بچے کا اندراج ہونے سے نہ رہ جائے۔

مردم شماری: کوئٹہ میں ایک ہی والد کے 33 بچے

دوسری جانب مردم شماری کے عملے کا کہنا ہے کہ عوام الناس کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اگر کسی خاندان میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے تو دوسرے فارم میں باقی بچوں کا اندراج کر کے پہلے فارم سے منسلک کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں