بھارت کے معروف اداکار تھلاپتی وجے کی فلم ’جن نایگن‘ کی ریلیز میں رکاوٹ آگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق تھلاپتی وجے کی فلم ’جن نایگن‘ کے سینسر سرٹیفیکیٹ سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جہاں 15 جنوری کو سماعت ہوگی۔
مقدمے کی سماعت جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ کرے گا۔
فلم کے پروڈیوسر کے وی این پروڈکشنز نے مدراس ہائی کورٹ کے ایک عبوری حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست دائر کی ہے۔
تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب فلم ’جن نایگن‘ کو مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ کے سامنے 18 دسمبر کو پیش کیا گیا۔ بورڈ کی ایگزامننگ کمیٹی نے چند کٹس کے ساتھ فلم کو یو اے سرٹیفکیٹ دینے کی سفارش کی تھی۔ فلم سازوں نے ان تمام تبدیلیوں پر عمل بھی کر لیا لیکن اس کے باوجود سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔
یہ پڑھیں: تھلاپتی وجے کا فلم انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان
بعد ازاں مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ نے فلم کو ری وائزنگ کمیٹی کے حوالے کردیا، جس پر اعتراض کرتے ہوئے فلم کے پروڈیوسرز نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
9 جنوری کو ہائی کورٹ کی سنگل بنچ، جسٹس پی ٹی آشا نے سینسر بورڈ کو فوری طور پر فلم ’جن نایگن‘ کے لیے یو اے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شکایات پر بار بار غور کرنا ایک تشویشناک رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔
تاہم اسی دن سینسر بورڈ نے ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں اپیل دائر کر دی، جس نے سنگل بنچ کے حکم پر روک لگا دی۔ ڈویژن بنچ کا کہنا تھا کہ بورڈ کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اس عدالتی روک کے بعد فلم کی ریلیز، جو 9 جنوری کو طے تھی، غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو گئی۔
ان حالات میں کے وی این پروڈکشنز نے 12 جنوری کو سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ فلم ’جن نایگن‘ کو تھلاپتی وجے کی سیاست میں مکمل سرگرم شمولیت سے قبل آخری فلم قرار دیا جا رہا ہے۔
جن نایگن کی ہدایت کاری ایچ ونود نے کی ہے جبکہ فلم میں تھلاپتی وجے کے ساتھ پوجا ہیگڑے مرکزی کردار میں نظر آئیں گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


