The news is by your side.

Advertisement

بلی سے بھی سستے شیر خریدیں، مگر کہاں؟

ٹوکیو: کیا آپ یقین کرینگے کہ دنیا کا ایسا بھی ملک ہے جہاں جنگل کی بادشاہ کی شہرت کم اور نسلی بلیوں کی زیادہ ہے۔

جی ہاں یہ ملک ہے جاپان، جاپان میں چڑیا گھر جانے والوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، گو کہ جاپانی چڑیا گھروں میں قطبی ریچھوں، ہاتھیوں اور پانڈا کو اب بھی بہت پسند کیا جاتا ہے لیکن شیر جیسے دیگر جانوروں کی شہرت اور قدر میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے ماضی میں جنگلی جانوروں کا کاروبار کرنے والے تسوشی شیروا نے بتایا کہ شیر اب جاپان میں بہت سستے ہو چکے ہیں اور انہیں آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، ماضی میں جاپان کے ہر چڑیا گھر انتظامیہ کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے وائلڈ لائف پارک میں شیر لازمی ہو کیوں کہ ان کی مانگ بہت زیادہ تھی لیکن اب یہ بہت عام ہو چکے ہیں، اب زیادہ تر لوگ انہیں اسی وقت دیکھنے آتے ہیں، جب یہ بچے ہوتے ہیں۔

تسوشی شیروا کے مطابق جاپان میں ایک شیر ایک لاکھ ین (تقریبا ایک ہزار ڈالر) کا مل جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اپنا خرچہ بچانے کے لیے ان شیروں کو بغیر کسی معاوضے کے کسی کو چڑیا گھر کو دے دیئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ سال دو ہزار چودہ کے بعد سے اب تک گیارہ سے چودہ شیر عوامی چڑیا گھروں کو عطیہ کیے گئے ہیں۔

تسوشی شیروا نے بتایا کہ شیر کے برعکس ایک نسلی بلی اس سے دوگنی قیمت میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ اچھی اور اعلی نسل کی بلی کی قیمت چار لاکھ ین (تقریبا چھ لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔

جاپان میں شیروں کی قیمت کم کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹوکیو یونیورسٹی میں ماحولیاتی شعبے سے منسلک کیوین شارٹ نے بتایا کہ شیروں کی قیمتیں کم ہونے کی بڑی وجہ ان کی بریڈنگ ہے، دیگر جانوروں کی نسبت قید میں شیروں کی بریڈنگ ایک آسان عمل ہے اور عمومی طور پر ایک ہی وقت میں تین بچے پیدا ہوتے ہیں، شائقین شیر کے بچوں کو تو پسند کرتے ہیں لیکن بڑے شیروں کو نہیں، جب شیر بڑے ہوتے ہیں تو پھر ان کی خوراک کی لاگت زیادہ ہو جاتی ہے، انہیں زیادہ گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اور گوشت جاپان میں کافی مہنگا ملتا ہے۔کیوین شارٹ نے بتایا کہ شیر کو رکھنے کے لیے بھی الگ الگ پنجروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب جاپان میں بچوں کی شرح پیدائش میں بھی کمی ہوئی ہے اور آج کے دور کے بچے چڑیا گھروں میں جانے کی بجائے آن لائن گیمز کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں