ٹوکیو (22 اکتوبر 2025): جاپان میں پہلی بار خاتون وزیر خزانہ اور وزیر اقتصادی تحفظ کی تقرری عمل میں آئی ہے۔
جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان میں ایک تاریخی پیش رفت دیکھی گئی ہے جس سے خواتین کی سیاسی شمولیت کا ایک نیا باب کھل گیا ہے، یہ پیش رفت کاتایاما ساتسوکی کو ملک کی پہلی خاتون وزیر خزانہ اور کیمی اونودا کو اقتصادی تحفظ کی وزیر مقرر کیے جانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
یہ فیصلہ جاپان کی نئی وزیر اعظم سناے تاکاچی نے اپنی کابینہ کے قیام کے موقع پر کیا، جو خود بھی جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہیں، کاتایاما ماضی میں وزارتِ خزانہ کی سینئر عہدیدار رہ چکی ہیں اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے تجربہ رکھتی ہیں، اور ان کی تعیناتی کو جاپان کی سیاسی تاریخ میں صنفی مساوات کی جانب ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ساتسوکی کاتایاما کے سامنے بڑا چیلنج ملکی کرنسی ’ین‘ کو مستحکم کرنا، افراطِ زر پر قابو پانا اور بجٹ خسارے میں کمی لانا ہوگا۔ ان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط اور کرنسی کی مضبوطی کے حق میں ہیں۔
دوسری جانب وزیر برائے اقتصادی امور کیمی اونودا کا شمار جاپان کی ابھرتی ہوئی نوجوان قیادت میں ہوتا ہے، وزارتِ اقتصادی تحفظ جاپان کی قومی سلامتی، ٹیکنالوجی، توانائی، اور عالمی سپلائی چین کے استحکام سے متعلق معاملات دیکھتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قدم پالیسی سطح پر صنفی مساوات، اجرتی اصلاحات اور سماجی سرمایہ کاری کو فروغ دے تو یہ محض نیو لبرل نظام کا ایک نمائشی قدم ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


