اسلام آباد (17 فروری 2026): قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کے اہم اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ جاپان میں لیبر کی ڈیمانڈ اوپن ہے مگر پاکستانی افرادی قوت کو زبان کا مسئلہ درپیش ہے۔
قائمہ کمیٹی میں جاپان افرادی قوت برآمدگی اور فیسوں کا معاملہ زیر بحث آیا، اتاشی جاپان کے مطابق جاپان نے TIPP اور SSW پروگرام کے تحت آئندہ 5 سے 10 سال کی ضرورت واضح کر دی ہے۔
جاپانی زبان میں N5 سے N1 تک کیٹیگری رکھی گئی ہے جب کہ ہائی اسکلڈ کے لیے کم از کم N3 درکار ہے، جب کہ حکام کے مطابق زیادہ تر امیدوار N5 بھی مشکل سے کلیئر کرتے ہیں، گزشتہ سال 2023 میں صرف 6 پاکستانی جاپان بھیجے گئے۔
بتایا گیا کہ سفارتخانہ جاپان کی مختلف پریفیکچرز اور چیمبرز آف کامرس سے روابط ہیں، او پی ایف اور متعلقہ اداروں کے زیر اہتمام سیمینارز اور آگاہی سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، ماہانہ سیمینارز کے ذریعے TIPP اور SSW سسٹم کی وضاحت بھی کی جا رہی ہے۔
جاپان میں نوجوانوں کیساتھ ‘خصوصی دھوکہ دہی’ کے ریکارڈ واقعات نے ہوش اڑا دیے
ایک ممبر کمیٹی نے کہا کہ بیرون ملک بھیجنے کے لیے شہریوں سے مبینہ طور پر 40 سے 60 لاکھ روپے وصولی کا انکشاف ہوا ہے، جب کہ سرکاری فیس 15 ہزار ہے، مگر امیدواروں سے لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں، غریب اور اہل امیدوار بھاری فیس نہ ہونے پر محروم ہو جاتے ہیں۔
ممبر نے کہا کہ پروموٹرز کے ذریعے غیر شفاف وصولیاں ہو رہی ہیں جس پر تشویش بجا ہے، اس لیے پروموٹرز سے مشاورت کر کے واضح پالیسی لائی جائے۔ کمیٹی کو تجویز دی گئی کہ تمام ادائیگیاں بینکنگ چینل کے ذریعے اور ٹیکس ریٹرن کے ساتھ مشروط کی جائیں۔ ممبر کمیٹی کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔


