The news is by your side.

Advertisement

جاپان کےشہر ہیروشیما پرایٹمی حملے کو 72 برس بیت گئے

ٹوکیو: جاپان کے شہرہیروشیما پر امریکی ایٹمی حملے کو72 برس بیت گئے، سانحے میں مرنے والوں کی یاد میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

امریکہ نے چھ اگست انیس سو پینتالیس کی صبح ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا، جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بنےتھے اور ہزاروں افراد معذورو زخمی ہوگئے تھے۔

ہیروشیما کے پیس میموریل پارک میں ہونے والی دعائیہ تقریب میں آج ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ان افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جو امریکہ کی طرف سے ایٹم بم گرائے جانے کے واقعہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آج سے 72 سال پہلے امریکہ نے جاپان پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔ چھ اگست سن 1945 کے دن ہیروشیما شہر ایٹم بم کا نشانہ بنا۔

چھ اگست 1945 شہر ہیروشیما جاپان اور اس زندگی سے بھرپور شہر کے کسی باسی کو اس تباہی کا ادراک نہ تھا جو امریکی ہوائی جہاز کے زریعے ایٹم بم کی صورت اس شہر پر منڈلا رہی تھی ۔

جاپان کےمقامی وقت کے مطابق صبح کے آٹھ بج کر سولہ منٹ پر امریکی بی 29 بمبار طیارے نے ’لٹل بوائے‘ کو ہیروشیما پر گرا دیا، لٹل بوائے اس پہلے ایٹم بم کا کوڈ نام تھا۔

لمحے بھر میں 80 ہزار انسان موت کی نیند سوگئے، 35 ہزار زخمی ہوئے اور سال کے اختتام تک مزید 80 ہزار لوگ تابکاری کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔


اگست 1945 میں جوہری بم گرانے کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ ہیروشیما


ہیروشیما میں چھ اگست اب ایک عالمی ایونٹ بن گیا ہے۔ اس روز خصوصی ریلی کے شرکاء پیس میموریل تک جاتے ہیں اور مرحومین کی یاد میں پھول رکھے جاتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس تقریب میں ہزاروں افراد نے شریک ہو کر خاص طور پر جوہری ہتھیار سازی کو مسترد کرنے کے حوالے سے نعرہ بازی کی ۔ہیروشیما شہر پر ایٹم بم سے بچ جانے والے بزرگ شہری خاص طور پر تقریب میں توجہ کا مرکز رہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایٹمی حملوں کے 3 دن بعد جاپان نے ہار تسلیم کرلی اور 15 اگست کوباضابطہ طور پرسرنڈر معاہدے پر دستخط کردیے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں