The news is by your side.

Advertisement

جاپان پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں کیوں بند کررہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی

ٹوکیو: ماحول دوست پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے جاپان نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جاپانی حکومت نے مستقبل کے لیے ماحول دوست پالیسیوں کی تیاری کرتے ہوئے آئندہ دس سالوں کے درمیان پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت مرحلہ وار ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت معیشت پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت کے بجائے، ہائی برڈ، الیکٹرک اور فیول سیلز سے چلنے والی متبادل گاڑیوں کی فروخت چاہتی ہے۔ وزارت اس سے متعلق ماحولیاتی ماہرین کے ایک پینل میں اس اہم معاملے پر تبادلہ خیال کر چکی ہے اور رواں سال کے آخر تک یہ ہدف باضابطہ طور پر مقرر کرنا چاہتی ہے۔

اس اقدام سے قبل وزیراعظم سُوگا یوشی ہیدے نے جاپان کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو دوہزار پچاس تک نیٹ زیرو پر لانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  جاپان کا پانچ ممالک کے شہریوں کیلئے خصوصی رعایت کا اعلان

اس کے علاوہ برطانیہ بھی پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی نئی گاڑیوں کی فروخت پر دو ہزار تیس کے اختتام تک اور ہائی برڈ گاڑیوں کی فروخت پر دو ہزار پینتیس کے اختتام تک پابندی عائد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اسی طرح امریکی ریاست کیلیفورنیا اور فرانس معدنی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت بالترتیب 2035 اور 2040 تک ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس میں جاپان نے معیشت اور ماحولیات کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلہ کیا تھا، جاپانی وزیراعظم نے اپنی ورچوئل تقریر میں کہا کہ معیشت اور ماحولیات کے لیے سازگار ماحول تشکیل دینے کی غرض سے جاپان دنیا کی گرین انڈسٹری کی قیادت کرے گا، جاپان گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کر کے دوہزار پچاس تک اسے نیٹ زیرو یعنی بالکل صفر تک لانے کے لئے پرعزم ہیں۔

وزیرِ اعظم سُوگا یوشی ہیدے نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید ترین شمسی سیلز، کاربن کی ریسائیکلنگ اور ہائیڈروجن توانائی جیسی انقلابی ایجادات سبز معاشرے کے حصول کے اہم ذرائع ہونگے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں