The news is by your side.

Advertisement

پلاسٹک سے بنی اشیاء کے استعمال میں کمی، جاپانی حکومت کا اہم اقدام

ٹوکیو : پلاسٹک کی تھیلیاں نہ صرف سمندری حیات بلکہ زرعی اراضی کے لئے بھی خطرہ ہیں، ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی اور زرعی پیداوار کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

اس حوالے سے آلودگی پھیلانے والے عناصر میں روزمرہ کی ضروریات زندگی کے طور پر استعمال کیے جانے والے ان پلاسٹک کے شاپنگ بیگ (شاپر) کا کردار سب سے زیادہ ہے۔

اس سلسلے میں جاپان میں حکومتی سطح پر اس کے سد باب کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں جس کے سبب پلاسٹک سے بنی اشیاء کے استعمال میں انتہائی کمی ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت جاپان نے کچرا کم کرنے اور پلاسٹک کو دوبارہ استعمال میں لانے کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نئے قانون کے تحت پلاسٹک سے بنی 12 اشیاء کے استعمال میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے، جاپانی کابینہ اس منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

ان تفصیلات کو یکم اپریل سے نافذ ہونے والے قانون کے تحت ایک سرکاری آرڈیننس میں درج کیا جائے گا۔ ان 12 اشیا میں اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والی دکانوں اور دیگر اسٹورز پر دیے جانے والے پلاسٹک کے چمچ اور اسٹرا، اقامت گاہوں پر فراہم کیے جانے والے ٹوتھ برش اور ریزر اور ڈرائی کلین کی دکانوں پر کپڑے لٹکانے والے ہینگر شامل ہیں، صرف ایک بار استعمال میں آنے والی یہ اشیا عام طور پر بلامعاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔

marine-Plastic-Waste

سالانہ پانچ ٹن یا زائد وزنی مذکورہ اشیا استعمال کرنے والی کمپنیوں کے لیے اس ضابطے پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔ ان کمپنیوں کو پلاسٹک سے ہٹ کر کوئی دوسرا مٹیریل استعمال کرنا ہو گا۔

اس کے علاوہ ان اشیا کو استعمال نہ کرنے کی ترغیب دینے کے لیے صارفین کو پوائنٹس کی پیشکش کرنی ہو گی یا پھر ان اشیاء کی قیمت وصول کرنی ہوگی۔

مزید پڑھیں : پلاسٹک سمندروں کو آلودہ کررہا ہے، جی20 ممالک سمندری کچرا اٹھانے کیلئے رضامند

حکومت تسلی بخش اقدامات نہ کرنے والے کاروباری اداروں کو انتباہ جاری کرے گی یا ان کے نام مشتہر کرے گی۔ ان شرائط کو ہر ممکن حد تک پورا کرنے کے لیے چھوٹی کمپنیوں کے مالکان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں